آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

پاکستان کا دوٹوک موقف

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

افغانستان میں غیر قانونی حکومت اور پاکستان کا دوٹوک موقف

افغانستان ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ وہاں اقتدار ہے، مگر زبردستی کا ہے۔ حکومت ہے، مگر جواز نہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں ہر طاقتور آیا، لیکن کوئی امن نہ لا سکا۔ دو ہزار اکیس میں جب طالبان نے بندوق کے زور پر کابل پر قبضہ کیا تو دنیا نے سمجھا شاید جنگ ختم ہو گئی۔ مگر درحقیقت، ایک نئی جنگ شروع ہوئی ۔۔۔ عوام اور اقتدار کے درمیان، اصول اور طاقت کے درمیان، مذہب اور سیاست کے درمیان۔

طالبان کا قبضہ کسی عوامی فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا۔ نہ الیکشن ہوئے، نہ مشاورت، نہ آئین باقی رہا۔ پارلیمنٹ تحلیل، عدلیہ تابع، اور اختلاف کی ہر آواز خاموش۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری نے اس حکومت کو تاحال تسلیم نہیں کیا۔ اکیسویں صدی میں دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ عوامی نمائندگی کے بغیر اقتدار میں رہے اور اسے قانونی حکومت سمجھا جائے۔ طالبان کا اقتدار طاقت سے قائم ہے، عوام کی رضامندی سے نہیں۔ اور طاقت کا دوام ہمیشہ مختصر ہوتا ہے۔

پاکستان نے برسوں افغان مسئلے پر نرمی برتی۔ مگر اب حالات نے رخ بدل دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے حالیہ بیان نے معاملہ بالکل واضح کر دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ
ہمیں امید ہے کہ ایک دن افغان عوام کو حقیقی آزادی نصیب ہوگی اور افغانستان میں ایک حقیقی نمائندہ حکومت حکمرانی کرے گی

یہ بیان صرف سفارتی جملہ نہیں، ایک تاریخی حقیقت کا اعتراف ہے۔ پاکستان نے برسوں طالبان سے تعلقات رکھے، لیکن اب اس نے وہ بات کہہ دی جو سب سوچ رہے تھے مگر کہنے سے ڈرتے تھے۔ پاکستان نے تسلیم کر لیا کہ کابل میں حکومت نہیں، قبضہ ہے۔ اور قابض کو قابض کہنا ہی سچائی کی بنیاد ہے۔

اسلامی جمہوریت کا تقاضا عدل، شورائیت اور عوامی مشاورت ہے۔ طالبان اگر اسلام کا نام لے کر حکومت کر رہے ہیں تو انہیں اسلام کے اصولوں کو سمجھنا ہوگا۔ اسلام میں حکمران وہ نہیں جو طاقت سے مسلط ہو جائے، بلکہ وہ ہے جو عدل سے نظام قائم کرے۔ جہاں مشاورت ختم ہو، وہاں ظلم شروع ہوتا ہے۔ عورتوں سے تعلیم چھیننا، صحافت کو خاموش کروانا، رائے کو دبانا — یہ شریعت نہیں، خوف کی حکمرانی ہے۔ اسلام علم کا علمبردار ہے، جبر کا نہیں۔

افغانستان کے عوام آج تھکے ہوئے ہیں۔ وہ پچھلے پچاس برسوں سے مسلسل جنگ، دربدری اور غیر یقینی کا شکار ہیں۔ کبھی روس، کبھی امریکہ، اب طالبان۔ عام افغان کے لیے ہر نیا حاکم ایک نیا عذاب ہے۔ معیشت تباہ، کرنسی کمزور، بینک خالی، روزگار ختم۔ لاکھوں لوگ بھوک کے دہانے پر ہیں۔ خواتین گھروں میں قید ہیں، بچیاں اسکول نہیں جا سکتیں، اور نوجوان ملک چھوڑنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ دنیا دیکھ رہی ہے، مگر بول نہیں رہی۔

پاکستان کے لیے یہ صورتحال محض انسانی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا چیلنج بھی ہے۔ سرحد پار سے حملے بڑھ رہے ہیں، دہشت گردی کے جال دوبارہ فعال ہو رہے ہیں، اور کابل کی حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ اگر افغانستان اپنے علاقے سے دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول نہیں کرتا تو پاکستان مجبوراً سخت فیصلے کرے گا۔ اب وہ وقت گزر گیا جب طالبان کے وعدوں پر یقین کر لیا جاتا تھا۔ پاکستان اب اپنی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

عالمی برادری نے بھی افسوس ناک دوہرا معیار اپنایا ہے۔ ایک طرف وہ طالبان کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے، دوسری طرف افغان عوام کو منجمد اثاثوں، بند بینکنگ نظام اور امداد کی کٹوتیوں کے ذریعے سزا دے رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ طالبان کے بجائے عام لوگ پس رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں چیخ رہی ہیں، مگر عالمی طاقتوں کے مفادات ان چیخوں سے زیادہ طاقتور ہیں۔ مغرب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک بھوکا اور مجبور افغانستان پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔

طالبان حکومت کے اندر بھی تقسیم بڑھ رہی ہے۔ کچھ لوگ دنیا سے تعلق چاہتے ہیں، کچھ مکمل تنہائی میں یقین رکھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تنہائی کسی ریاست کو نہیں بچا سکتی۔ طالبان اگر واقعی افغانستان کے خیرخواہ ہیں تو انہیں عوام کے ساتھ مکالمہ شروع کرنا ہوگا، ایک آئینی فریم ورک وضع کرنا ہوگا، اور ایسا نظام قائم کرنا ہوگا جس میں ہر قوم، ہر زبان، ہر مذہب اور ہر طبقہ شامل ہو۔ جب تک یہ نہیں ہوگا، طالبان کی حکومت دنیا کے لیے غیر قانونی ہی رہے گی۔

پاکستان کا حالیہ موقف صرف افغانستان کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے پیغام ہے۔ اب دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے یا بندوق والوں کے ساتھ۔ پاکستان نے سچ بول دیا ۔۔اب باقی دنیا پر ہے کہ وہ سچ سننے کی ہمت رکھتی ہے یا نہیں۔ اگر عالمی برادری نے حقیقت سے منہ موڑا تو نقصان صرف افغانستان کا نہیں ہوگا، پورے خطے کا ہوگا۔

اکیسویں صدی میں بندوق کی حکومتوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں بچی۔ یہ صدی آئین، اداروں اور عوامی شمولیت کی صدی ہے۔ جو ریاست عوام سے الگ کھڑی ہوگی، وہ خود اپنی بنیاد کھو دے گی۔ طالبان اگر سمجھتے ہیں کہ وہ طاقت کے بل پر حکومت چلا لیں گے تو یہ بھول ہے۔ طاقت عارضی ہوتی ہے، مگر عوام کی رضا مستقل قوت ہے۔

افغانستان کو امن چاہیے، انصاف چاہیے، ترقی چاہیے۔ اس کے عوام اب مزید تجربات برداشت نہیں کر سکتے۔ پاکستان نے جو کہا وہ وقت کی آواز ہے ۔۔۔ افغانستان میں حکومت نہیں، قبضہ ہے۔ اور دنیا کا کوئی ملک اس قبضے کو تسلیم نہیں کر رہا۔ تاریخ کی دیوار پر یہ لکھا جا چکا ہے: عوام کے بغیر کوئی حکومت دیرپا نہیں ہوتی۔
طالبان کو اب فیصلہ کرنا ہوگا۔۔یا تو وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہوں، یا تاریخ ان کے خلاف لکھ دی جائے گی۔ وقت گزر رہا ہے، اور وقت کبھی معاف نہیں کرتا۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button