آپ کا سلاماردو غزلیاتافتخار شاہدشعر و شاعری

قدموں تلے میں سارا سمندر لئے ہوئے

افتخار شاہد کی ایک غزل

قدموں تلے میں سارا سمندر لئے ہوئے
چلتا ہوں آسمان کو سر پر لئے ہوئے

اک ہم نوا کی شہر میں آمد کا شور ہے
ہم بھی کھڑے ہیں ہاتھ میں پتھر لئے ہوئے

ہے انتہائے شوق سے آگے بھی اک جہاں
لیکن چلو جو عشق سا رہبر لئے ہوئے

یہ اور بات قافلہ دریا کو چل پڑا
ورنہ وہیں تھے ہم بھی سمندر لئے ہوئے

اپنے ہی خاک وخون لتھڑی ہوئی ہوا
وہ جا رہی ہے اپنا مقدر لئے ہوئے

شاھد کسی نے آخرش پلکیں ہی موند لیں
آنکھوں میں تیری دید کا منظر لئے ہوئے

افتخار شاہد

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button