آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

بیانیے کا زہر

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

پاکستان ایک نازک سیاسی دور سے گزر رہا ہے جہاں سیاست صرف اختلاف رائے تک محدود نہیں رہی بلکہ بیانیے کی شدت، توہین آمیز زبان اور قانونی حدود کی پامالی ملک کی بنیادوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں سابق وزیراعظم عمران خان کے ایک بیان نے اس صورتحال کی سنگینی واضح کر دی ہے۔ انہوں نے کہا:
"اگر جیل میں مجھے کچھ ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا۔ عاصم منیر تاریخ کا ظالم ترین ڈکٹیٹر اور ایک ذہنی مریض ہے۔ اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ ہی اسلام کی سمجھ۔ اس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔”

یہ وہ الفاظ ہیں جو ایک قیدی رہنما نے جیل میں بیٹھ کر ریاستی اداروں اور ایک فرد پر لگائے، اور اس کے اثرات محض ذاتی الزامات تک محدود نہیں رہے۔ ایک قیدی رہنما کے اس بیانیے سے پہلے عوام میں غصہ اور انتشار پھیلتا ہے، پھر سماجی اور اقتصادی سطح پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جب سیاسی قیادت اپنے ذاتی تصورات کو "ظلم” یا "بدتمیزی” کے الفاظ میں لپیٹ کر پیش کرتی ہے تو یہ نہ صرف گفتگو کی تہذیب کو زہریلا بناتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی اور اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ نوجوان نسل کے لیے یہ رویہ انتہائی خطرناک ہے کیونکہ یہ انہیں یہ پیغام دیتا ہے کہ اختلاف رائے کا مطلب بدتمیزی اور اداروں کی تضحیک ہے، اور یہی ذہنیت معاشرے میں انتشار اور غیر رواداری کو فروغ دیتی ہے۔

اس کا اثر صرف سماجی دائرے میں نہیں بلکہ اقتصادی سطح پر بھی نظر آتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، اور سیاسی عدم استحکام نے سرمایہ کاروں کا اعتماد کم کیا ہے۔ جب سیاسی قیادت اداروں کو بدنام کرتی ہے، تو کاروباری ماحول میں عدم یقینی پیدا ہوتی ہے، جس سے روزمرہ کاروبار، سرمایہ کاری اور ملازمت کے مواقع متاثر ہوتے ہیں۔ اس طرح کے بیانیے ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے بھی خطرہ ہیں اور عام شہری کے معیار زندگی پر براہ راست اثر ڈال رہے ہیں۔

قانون اور آئین کی ساکھ بھی اس بیانیے سے شدید متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان ایک آئینی جمہوری ملک ہے، جہاں عدلیہ، قانون اور ریاستی اداروں کا احترام بنیادی ستون ہیں۔ ایک سیاسی رہنما کا عدالت کے فیصلوں، ریاستی اداروں یا کسی فرد کے خلاف توہین آمیز یا الزام تراش بیانات دینا نہ صرف سنجیدگی سے دور ہے بلکہ یہ قانون کی حدود کو بھی پامال کرتا ہے۔ ریاستی ادارے کسی ایک شخص کے سیاسی مخالف ہونے کے لیے نہیں بنائے گئے، اور ان کی توہین دراصل پورے آئینی ڈھانچے پر حملہ ہے۔

یہ صورتحال صرف سیاسی محاذ تک محدود نہیں رہتی، بلکہ عوامی جذبات میں بھی شدت پیدا کرتی ہے۔ لوگ اپنے پسندیدہ رہنما کے الفاظ کو سچ یا صحیح قرار دیتے ہیں، اور اسی طرح سیاسی بیانیہ معاشرتی تقسیم کو بڑھاوا دیتا ہے۔ اگر ایک سیاسی رہنما اس طرح کے بیانات دیتا ہے تو اس کا اثر عوام کے رویے پر بھی پڑتا ہے، جس سے عدم برداشت، نفرت اور تعصب میں اضافہ ہوتا ہے۔

پاکستان کی جمہوری و سیاسی صحت کے لیے ضروری ہے کہ سیاست میں سنجیدگی، ذمہ داری اور حقیقت پسندی کو ترجیح دی جائے۔ اختلاف رائے جائز ہے، لیکن بیانات کو ذاتی حملوں، الزام تراشی اور اداروں کی تضحیک کے لیے استعمال کرنا کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ ایک حقیقی رہنما وہ ہوتا ہے جو رائے کے اختلاف کو مہذب اور مؤثر مکالمے میں بدل سکے، نہ کہ اسے انتشار اور ذاتی انتقام کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرے۔

عمران خان کے بیان سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سیاسی طاقت اور مقبولیت کی دوڑ میں بعض اوقات قومی مفاد اور قانونی حدود بھول جائیں۔ قید میں بیٹھ کر ایسے الفاظ بولنا، اداروں کی حرمت کو پامال کرنے کے مترادف ہے، اور اس کا اثر صرف سیاستدانوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے، معیشت اور قانون پر پڑتا ہے۔ عوام، نوجوان اور کاروباری حلقے سب اس کا اثر محسوس کرتے ہیں، اور یہی خطرہ پاکستان کی جمہوری و معاشرتی بنیادوں کے لیے سب سے زیادہ سنگین ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو ایک مضبوط اور ذمہ دار جمہوریت کے قیام کے لیے ایسے بیانیے سے پرہیز کرنا ہوگا۔ سیاست میں سنجیدگی، آئینی حدود کا احترام اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کو انتشار اور عدم استحکام سے بچانا چاہتے ہیں، تو سیاسی قیادت کو بھی اپنی زبان، رویے اور بیانیے کی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ غیر ذمہ دارانہ اور توہین آمیز بیانات صرف انتشار اور بے یقینی پیدا کرتے ہیں، اور ایک معاشرے کے لیے سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ ان بیانات کے اثرات سے اپنے مستقبل اور ترقی کی راہ کھو بیٹھے۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button