آپ کا سلاماردو غزلیاتڈاکٹر طارق قمرشعر و شاعری

اشک سمندر ہوجاتے ہیں

ایک اردو غزل از طارق قمر

اشک سمندر ہوجاتے ہیں
غرق ستمگر ہوجاتے ہیں

آنکھ کھلی تو ہم نے جانا
خواب بھی بے گھر ہوجاتے ہیں

میں کچھ دیر جو چُپ رہتا ہوں
لوگ سخنور ہوجاتے ہیں

ایک عمارت بن جاتی ہے
کتنے بے گھر ہوجاتے ہیں

خنجر تنہا رہ جاتا ہے
زخم بہتّر ہوجاتے ہیں

بیٹےکو بیٹا کرنے میں
گروی زیور ہوجاتے ہیں

درد جب احساں کردیتا ہے
لفظ منور ہوجاتے ہیں

فرق تو رہتا ہے قبروں میں
لوگ برابر ہوجاتے ہیں

دل کا خو بہت ہوتا ہے
شعر تو بہتر ہوجاتے ہیں

صورت ابھرے یا نہیں ابھرے
لوگ تو آذر ہوجاتے ہیں

طارق قمر

post bar salamurdu

ڈاکٹر طارق قمر

ڈاکٹر طارق قمر سینئر ایسو سی ایٹ ایڈیٹر نیوز 18 اردو لکھنئو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button