واقعۂ طائف کے تناظر میں ایک نعتیہ نظم کا جائزہ
تحریر : سہیل احمد صمیم
ریاض حسین چوہدری: عصرِ حاضر میں ردِّ عمل نہیں بلکہ سیرتِ نبوی پر عمل پیرا ہونے والا شاعر۔ (واقعۂ طائف کے تناظر میں ایک نعتیہ نظم کا جائزہ)
تاریخِ اسلام میں وادیِ طائف کا واقعہ فقط ایک دردناک باب نہیں بلکہ صبر، حلم، رحمت اور اخلاق و تعلیماتِ نبوی ﷺ کا ایسا روشن استعارہ ہے جو ہر دور کے انسان کو اپنے کردار کا محاسبہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ تفصیل یہ ہے کہ جب مکہ کی زمین دعوتِ حق کے لیے بہت تنگ ہو گئی اور تو نبی کریم ﷺ چراغِ امید لے کر وادیِ طائف پہنچے۔ مگر وہاں آپ ﷺ کا استقبال محبت سے نہیں بلکہ نفرت، استہزا اور سنگ باری سے ہوا۔
سرداروں نے شیریر بچوں کو اکسایا اور وہ پتھر مارتے رہے۔ یہاں تک کہ آپﷺ نعلین مبارک خون سے بھر گئیں۔ یہ صرف جسمانی اذیت نہ تھی بلکہ انسانی بے حسی کی ایک المناک تصویر تھی۔ فرشتے اللہ کی طرف سے پیغام لائے کہ اس ساری بستی کو ہم نیست و نابود کر دیں گے اگر آپ اجازت دیں۔ مگر حضور پاک ﷺ نے عذاب کی اجازت دینے کی بجائے ان کے حق میں ہدایت اور آنے والی نسلوں کے ایمان کے لئے دعا فرمائی تھی۔
جناب ریاض حسین چوہدری صاحب نے اسی واقعۂ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک نظم لکھی ہے جس کا عنوان ہے "سوال، جس کا جواب تُو ہے”۔ (یہ نظم انکی کتاب "زرِ معتبر” میں شامل ہے)۔
ریاض حیسن چوہدری صاحب کا شمار نعت کے نمائندہ لکھاریوں میں ہوتا ہے جبکہ جدید نعتیہ منظر نامے میں ان کی شناخت نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ لیکن زیرِ نظر آج انکی ایک ایسی نظم ہے جو اُنہیں جدید موضوعات میں بھی باقی نعت گو شعرا سے ممتاز کرتی ہے۔
اس نظم میں انہوں نے تین حوالے قلم بند کئے ہیں۔
اول: آرزو مندی / فدائیت۔
دوم: واقعہ طائف اور موجودہ عہد کا تقابلی جائزہ / مماثلت۔
سوئم: آنے والی نسلوں کی رہ نمائی۔
پہلا حصہ دیکھیں۔
"حضورﷺ آقا
میں سو چتا ہوں
دیارِ طائف کی وادیوں میں
اگر کہیں ہوتا توڈھال بنتا
تمام پتھر میں اپنے سینے پر روک لیتا
میں تیری راہوں سےچن کے کانٹے حریمِ جاں میں سنبھال رکھتا
میں بن کے بادل تجھے چھپا لیتا دشمنوں کی نظر سے آقا
میں تیرے قدموں میں جان دے کر سند غلامی کی مانگ لیتا
مرا تفاخر عظیم ہوتا”
یہ حصہ عشقِ رسول ﷺ کی ایسی تپش سے لبریز ہے جہاں محبت محض جذبہ نہیں رہتی بلکہ ڈھال بننے، زخم سہنے اور خود کو مٹا دینے کی آرزو میں ڈھل جاتی ہے۔ شاعر کے دل میں ایک حسرت سلگتی ہے کہ کاش دیارِ طائف میں موجود ہوتا تو پتھروں کی اذیت اپنے سینے پر سجا لیتا۔ یہ کیفیتِ عشق، وفا، بے بسی اور فدائیت کی بھیگی ہوئی روشنی سے جگمگاتی ہے۔ لفظ در لفظ عقیدت، عشقِ رسول ﷺ کی گہرائی اور روحانی وارفتگی محض رسمی کیفیت نہیں بلکہ خود سپردگی کے فلسفے میں ڈھل جاتی ہے۔
دوم، واقعہ طائف اور موجودہ عہد کا تقابلی جائزہ / مماثلت:
بند ملاحظہ فرمائیں۔
"خلیج لمحوں کی پاٹ اپنا وسیع تر کر رہی ہے ہر شب
میں عصرِ نو میں حدودِ طائف ؐمیں رہنے والے غلیظ لڑکوں کے
قہقہے سن رہا ہوں لیکن
مجھے سکھایا نہیں ہے تو نے
کسی سے بغض و عناد رکھنا
مگر اجازت
حضور اک دن
حرفِ صدق و صفا کے ان قاتلوں سے یوں انتقام لوں گا
میں تیری سنت کی روشنی میں کسی کو بھی بددعا نہ
دوں گا”
نظم کا یہ حصہ سب سے اہم ہے جہاں انہوں نے صرف ردِ عمل دینے کی بجائے ایک کامل حل نکالا ہے۔ ریاض حسین چوہدری صاحب کے کے نزدیک طائف کا سانحہ فقط ایک تاریخی باب نہیں بلکہ ایک دائمی استعارہ ہے۔ ایسا استعارہ جو ہر زمانے، ہر عہد میں نئے چہروں اور نئے ہتھیاروں کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔ کل گلیوں گلیوں پتھر اچھالے جاتے تھے اور آج لفظوں کی نوکیلی تحریریں اور کی بورڈ کی بے رحم ضربیں ہیں جو دلوں کو زخمی کرتی ہیں۔ وہ محسوس کرتے ہیںکہ اذیت کی ہیئت بدل گئی ہے مگر اذیت کی روح وہی ہے۔ مگر یہاں انکا زاویۂ فکر محض شکوہ یا غصے کا نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جو انہیں باقیوں سے قدرے مختلف کرتا ہے۔
نعت میں امت کا غم، ابتری کو بیان کرنا اور حالتِ زار پر نبی پاک سے کرم مانگنا ایک مکمل روایت ہے مگر یہاں پر ریاض صاحب صرف بیانیہ یا روایت کی حد تک محدود نہیں رہتے بلکہ اخلاق و تعلیماتِ نبوی ﷺ کی عظمت کو سمجھتے ہیں اور انتقام کے مفہوم کو ازسرِنو تشکیل دیتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں طائف سا سماں ہے۔ آج بھی “غلیظ و شیریر لڑکے ہیں”۔ مگر ہاتھ میں پتھر نہیں بلکہ قول و عمل میں پتھر ہیں۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ انتقام نفرت سے نہیں لیا جائے گا، بلکہ سنتِ مصطفی ﷺ پر عمل پیرا ہو کر ، ان کے اخلاق سے روشنی لے کر، صدق و صفا کی خوشبو، اور کردار کی بلندی سے لیا جائے گا۔یوں وہ ایک نہایت بلند اخلاقی تصور پیش کرتے ہیں کہ میں بددعا کے بجائے دعا اور اذیت کے جواب میں کردارِ نبی پیش کروں گا۔ زندگی میں گفتار کی بجائے سنتِ نبی لاؤں گا۔ گویا ان کے نزدیک سب سے بڑا انتقام یہ ہے کہ تاریکی کے عہد میں بھی انسان، مصطفوی اخلاق کا چراغ بجھنے نہ دے۔ یہی اس نظم کا اخلاقی پیغام و نکتہ ہے۔
سوئم: نسلوں کی رہ نمائی۔
پہلے بند ملاحظہ ہو۔
"میں تیرے ٹخنوں سے بہنے والے لہو کی سچی قسم اٹھا کر
ترے جمالِ سخن کی رم جھم سے شب کا چہرہ اجال دوں گا
کتابِ شر کے میں سرورق کو شبہہِ حرفِ زوال دوں گا
میں آنے والی نسلوں کو ایک ایسا سوال دوں گا
سوال، جس کا جواب تو ہے
مجھے یقیں ہے
یہ آنے والی اداس نسلیں
غبارِ صحرا میں لمس تیرے نقوشِ پا کا تلاش لیں گی
کہ ان کی قسمت میں روشنی ہو گی”۔
مذکورہ نظم کا تیسرا پہلو ایک روحانی و حقیقی اُفق کی مانند وا ہوتا ہے۔
وہ آنے والی نسلوں کو محض نصیحت نہیں دیتے بلکہ ایک ایسا سوال عطا کرتے ہیں جس کا جواب ذاتِ مصطفی ﷺ میں مضمر ہے۔ یہ نہایت عمیق، قابلِ عمل اور فکری استعارہ ہے۔ گویا وہ دینِ اسلام و رسالت مآب ﷺ کی ذاتِ مبارکہ کو ہی اصل ماخذ سمجھتے ہیں۔ یعنی عہدِ جدید کی تھکی، بے سمت اور اداس نسلیں جب مادّی شور، انتشارِ فکر و زماں اور روحانی خلا سے زخمی ہوں گی تو بلاشبہ وہ دولتِ سکون ذاتِ مصطفی ﷺ سے ہی پائیں گے۔
“غبارِ صحرا میں لمس تیرے نقوشِ پا کا تلاش لیں گی”، یہ دراصل ایک عظیم یقین کا استعارہ ہے کہ وقت خواہ کتنا ہی بدل جائے۔ روحِ انسان آخرکار اسی روشنی کی متلاشی رہتی ہے جو وادیِ طائف کے زخموں سے بھی رحمت بن کر اُبھری تھی۔ یوں شاعر کا پیغام محض جذباتی عقیدت نہیں، بلکہ نسلوں کی فکری و اخلاقی رہنمائی کا ایک روشن منشور بن جاتا ہے؛ ایک ایسا یقین کہ تاریکی کتنی ہی گہری ہو، روشنی کا سراغ آخرکار سیرتِ نبوی ﷺ ہی سے پھوٹے گا۔
ریاض حسین چوہدری صاحب کی یہ نظم بلاشبہ ایک بلند پایہ، فکری پختگی، اور پیغامِ نبی پاک ﷺ سے رچی بسی ہے۔ جو موجودہ اخلاقی بحران کا ایک نبوی حل بھی پیش کرتی ہے۔
سہیل احمد صمیم







