- Advertisement -

پری وش کے پاﺅں

عرفان شہود کی ایک اردو نظم

پری وش کے پاﺅں
(محبوب کے لیے)

نشاط
اُس پاﺅں کی ایڑی میں پوشیدہ
گلابی بلبلے بنتے ہیں جب وہ پاﺅں سے پرواز کرتی ہے
زمیں حشرات کو آواز دیتی ہے
درختوں پر کوئی ہلچل سی ہوتی ہے
قطاروں میں
اُسے چھونے کی خاطر جوتیوں کی آ ہنی دیوار پر طالب لٹکتے ہیں
وہ اِک بوسے کی خاطر موت کو کم تر سمجھتے ہیں
وہ اُبلے رُوپ سے جن راستوں کو چُھو کے آتی ہے
وہاں سُلگے پہر میں دھوپ بھی شاداب لگتی ہے
وہ جن بھی پانیوں سے پاﺅں کی مٹی بدلتی ہے
چمکتے موتیوں کی ندیاں سی بہنے لگتی ہیں
یہ کیسے پاﺅں ہیں جن میں زمانہ منہمک ہے
اور دُنیا بے خبر ہے

عرفان شہود

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
افتخار شاہد کی ایک غزل