اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

زندگی حسن بام و در تو نہیں

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

زندگی حسن بام و در تو نہیں
چند اینٹوں کانام گھر تو نہیں

سر رہ حال پوچھنے والے
دل کی ہر بات مختصر تو نہیں

کیا کسی پر یقیں کریں باقیؔ
بے سہارا ہیں بے خبر تو نہیں

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button