یار کیا داستاں کو موڑ دیا
مجھ کو اندھے کنویں میں چھوڑ دیا
عکس چوری کیا سلیقے سے
آئنہ واپسی پہ جوڑ دیا
عین خوشبو کے وقت بو جاگی
اور میں نے وہ پھول توڑ دیا
پھونک ماری ہے کس نے قالب میں
خامشی کا طلسم توڑ دیا
گھر سے باہر نہیں نکلتے ہم
تیری خاطر جہان چھوڑ دیا
جونک چمٹی رہی بدن کے ساتھ
تیرے غم نے مجھے نچوڑ دیا
وقت کاندھوں پہ چڑھ گیا راشدؔ
خود فریبی کا مٹکا پھوڑ دیا
راشد امام








