آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہیوسف صدیقی

ماہِ رجب

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

ماہِ رجب: روحانیت اور اصلاحِ نفس کا مہینہ

اسلامی سال کے بارہ مہینوں میں ماہِ رجب کو ایک منفرد اور باوقار مقام حاصل ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جسے قرآن مجید نے اشہرِ حرم میں شامل فرمایا، یعنی وہ مہینے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خاص حرمت اور تقدس عطا کیا۔ رجب محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے، ایک موقع ہے اور ایک دعوت ہے انسان کو اپنے باطن کی طرف پلٹنے کی۔

اسلام سے قبل بھی عرب معاشرہ رجب کی حرمت کو مانتا تھا۔ اس مہینے میں جنگ و جدال روک دیا جاتا اور تلواریں نیام میں رکھ دی جاتیں۔ اسلام نے آ کر اس تصور کو مزید مضبوط کیا اور واضح کر دیا کہ انسان کی جان، امن اور سکون کو ہر حال میں ترجیح حاصل ہے۔ آج کے پرآشوب دور میں جب ہر طرف نفرت، تشدد اور بے یقینی دکھائی دیتی ہے، رجب کا مہینہ ہمیں امن اور تحمل کا سبق دیتا ہے۔

ماہِ رجب کی سب سے بڑی روحانی نسبت واقعۂ معراج النبی ﷺ سے جوڑی جاتی ہے۔ یہ وہ عظیم الشان واقعہ ہے جس میں نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے زمین سے آسمانوں تک سیر کروائی۔ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس تک اور پھر آسمانوں کی بلندیوں تک کا یہ سفر محض ایک معجزہ نہیں بلکہ ایمان کی گہرائی کا امتحان بھی تھا۔ اسی موقع پر نماز جیسی عظیم عبادت امتِ مسلمہ کو عطا کی گئی، جو بندے اور رب کے درمیان سب سے مضبوط تعلق کی علامت ہے۔

معراج کے سفر میں بیت المقدس کا انتخاب اس شہر کی غیر معمولی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ بیت المقدس محض ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ انبیاء کی سرزمین ہے، توحید کا مرکز ہے اور امتِ مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہی وہ مقام ہے جو ماہِ رجب میں ایک اور عظیم واقعے کا گواہ بنا، جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا۔

یہ فتح تلوار کی دھار سے نہیں بلکہ عدل، امانت اور اعلیٰ کردار کے ذریعے ممکن ہوئی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیت المقدس میں داخل ہونا اسلامی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، جہاں فاتح ہونے کے باوجود کسی پر ظلم نہیں کیا گیا، عبادت گاہوں کو تحفظ دیا گیا اور انسانی وقار کو مقدم رکھا گیا۔ آج جب دنیا اسلام کو تنگ نظری سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہے، رجب کی یہ تاریخی مثال ہمارے لیے ایک مضبوط جواب ہے۔

ماہِ رجب کو تیاری کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں سے شعبان اور پھر رمضان المبارک کی روحانی فضا شروع ہوتی ہے۔ رجب ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں، اپنی کوتاہیوں پر ندامت محسوس کریں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سچی توبہ کریں۔ یہ مہینہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ کہیں ہم عبادت کو رسم نہ بنا بیٹھیں اور دین کو محض الفاظ تک محدود نہ کر دیں۔

اگرچہ رجب میں کوئی خاص فرض عبادت مقرر نہیں کی گئی، مگر اس مہینے میں نفل عبادات، ذکر و اذکار اور استغفار کی طرف رغبت دلوں کو نرم کر دیتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس مہینے کو غنیمت جانتے تھے اور اپنے دلوں کو آنے والے رمضان کے لیے تیار کیا کرتے تھے۔ یہاں اعتدال ضروری ہے، نہ غلو ہو اور نہ غفلت، بلکہ سنت کے مطابق سادہ اور خلوص پر مبنی عمل ہو۔

بدقسمتی سے رجب کے ساتھ کچھ غیر مستند روایات اور رسومات بھی منسوب کر دی گئی ہیں جو اصل مقصد سے توجہ ہٹا دیتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دین کو علم کی روشنی میں سمجھیں، بدعات سے بچیں اور اصل پیغام کو اختیار کریں، جو اصلاحِ نفس اور قربِ الٰہی ہے۔

آج کا مسلمان اگر ماہِ رجب کے پیغام کو سمجھ لے تو اس کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت کا اصل معیار اخلاق ہے، کامیابی کا اصل راستہ عبادت ہے اور فلاح کا اصل ذریعہ عدل اور امن ہے۔ رجب ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ سے تعلق مضبوط کیے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ماہِ رجب محض گزر جانے والا وقت نہیں بلکہ سنبھل جانے کا موقع ہے۔ یہ مہینہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں، اپنے دلوں کو صاف کریں اور آنے والے بابرکت مہینوں کے لیے خود کو تیار کریں۔ اگر ہم نے رجب کو سمجھ لیا تو شاید ہماری زندگی کا مقصد بھی ہمیں سمجھ آ جائے۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button