- Advertisement -

جب اس پر پھول آئیں گے تو حیرانی بنے گی

ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا

جب اس پر پھول آئیں گے تو حیرانی بنے گی
محبت کچھ دنوں میں رات کی رانی بنے گی

وہ سایہ ہے تو تھوڑی دیر سستا لیں گے اس میں
وہ دلدل ہے تو رستے میں پریشانی بنے گی

بنایا جا چکا ہے دل میں اک دشت – تمنا
اب اس میں آمد – غول – بیابانی بنے گی

یہ دن اخروٹ جیسا دن نہیں بنتا کسی سے
تو پھر یہ رات کس جادو سے خوبانی بنے گی

مرا آنسو بہانے کا یہ پہلا واقعہ ہے
کسی درویش کا کہنا تھا طغیانی بنے گی

عزاداری بھی گویا شاعری جیسا ہنر ہے
مرے ماتم سے میری چاک دامانی بنے گی

چلو مانا یہ تصویریں درندوں کی ہیں لیکن
انہیں آپس میں جوڑو نسل – انسانی بنے گی

تمہارا دیدہ ء نم تو زمیں پر بہہ رہا ہے
فلک پر چاند نکلے گا تو پیشانی بنے گی

عاطف کمال رانا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا