آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمیثم علی آغا
کس درجہ اکیلی ہے یہ یکتائی ہماری
میثم علی آغا کی ایک اردو غزل
کس درجہ اکیلی ہے یہ یکتائی ہماری
رو پڑتی ہے ملتے ہمیں تنہائی ہماری
یہ کون سے گھاؤ میں ابھی ٹیس اُٹھی ہے
ہنستے ہوئے کیوں آنکھ یہ بھر آئی ہماری
ہم اہلِ خرد عشق میں بے سُدھ ہوئے آخر
ہنستی رہی خود ہم پہ ہی دانائی ہماری
کیا زخم تھا جو زندگی بھر، بھر نہیں پایا
کیوں ہو ہی نہیں پائی مسیحائی ہماری
اب بھیج بھی دے اپنی قبا شاہِ شہ یوسف
لوٹا دے گئی عمر سے بینائی ہماری
اک عمر تلک مل ہی نہیں پایا نشاں تک
اک روز اچانک سے خبر آئی ہماری
ہم ضبط کی اس آخری منزل پہ تھے میثم
روتے ہوۓ آواز نہ بھرّائی ہماری
میثم علی آغا








