اردو غزلیاتشعر و شاعریناہید ورک

کب ہمیں تمنّا تھی آنکھ میں بسانے کی

ناہید ورک کی اردو غزل

کب ہمیں تمنّا تھی آنکھ میں بسانے کی
اک تھکن رفاقت کی اک تھکن زمانے کی
تم سے گر میں روٹھی تھی مان بھی تو جاتی میں
کاش کرتے اک کوشش تم مجھے منانے کی!
ٹوٹتی گئیں کڑیاں اور بڑھ گئی دوری
راہ مٹ گئی اک اک بات کو نبھانے کی
شام ہو سویرا ہو، دھوپ ہو اندھیرا ہو
کھائی ہے قسم تیری یاد نے ستانے کی!
آج پھر ہواؤں نے تذکرہ کیا تیرا
بات پھر نکل آئی شامِ غم منانے کی
سُرخ ہیں مری آنکھیں زرد ہے مرا چہرہ
رائیگاں ہوئی کوشش سب اُسے بھلانے کی
کیا سبب بتاؤں میں دل کی اس اُداسی کا
بس رہی نہیں عادت مجھ کو مسکرانے کی
رات بھر مری آنکھیں نیم وا رہیں ناہید
آس تھی انہیں شاید اُس کے لوٹ آنے کی

ناہید ورک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button