آپ کا سلاماردو غزلیاتثوبیہ نورین نیازیشعر و شاعری

کہی ہے پھر بھی اب تک ان کہی ہے

ثوبیہ نورین نیازی کی ایک اردو غزل

کہی ہے پھر بھی اب تک ان کہی ہے
کہ دل کی بات دل میں رہ گئی ہے

تجھے ہر پل میرا دل ڈھونڈتا ہے
میرے اندر یہ کیسی تشنگی یے

تو بولے، مسکرائے دیکھ لے تو
تبھی لگتا ہے مجھ میں زندگی یے

میں آنکھیں بند کر کے سو رہی ہوں
تیری تصویر ان میں جاگتی ہے

میرے اندر عجب اک شور سا ہے
مرے باہر اگرچہ خامشی یے

تعلق تو تمھیں رکھنا پڑے گا
وہ چاہے دوستی یا دشمنی ہے

مری آنکھوں میں یہ جو روشنی ہے
تری آنکھوں سے ہو کر آرہی ہے

مرے ہاتھوں میں تیرا ہاتھ ہو تو
بھری دنیا میں کس شے کی کمی ہے

ثوبیہ خان نیازی

post bar salamurdu

ثوبیہ نورین نیازی

ثوبیہ نورین نیازی کا تعلق فیض احمد فیض کی سرزمیں نارووال سے ہے - ابتدائی تعلیم اپنے ہی شہر سے حاصل کی - بعد ازاں اعلی تعلیم کے لیے لاہور کا رخ کیا اور یہی پہ رہائش پذیر ہیں - شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں- ایک شعری مجموعہ میرا محرم راز اور ایک نثری مضامین کی کتاب کبھی دیکھ پلٹ کر شائع ہو چکی ہیں - جبکہ دوسرا شعری مجموعہ تاروں کے دشت میں زیر طبع ہے - ثوبیہ نورین نیازی پاکستان کے بڑے اخبار نوائے وقت میں کالمز لکھتی ہیں - اس کے علاوہ خدمت خلق کے کئی اداروں سے وابستہ ہیں - ثوبیہ نورین نیازی نے اپنے اشعار میں محبت کے سچے جذبوں کو پورے خلوص سے بیان کیا ہے ان کے ہاں سادگی، سلاست اور روانی ہے - زیادہ تر چھوٹی بحر میں شاعری کرتی ہیں - چند لفظوں میں بڑی سے بات بیان کرنے کا ہنر جانتی ہیں - نثر میں واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ سے متاثر ہیں - تصوف اور وحدت الوجود کا بیان بڑی گہرائی اور وسعت قلب سے کرتی ہیں -

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button