- Advertisement -

Qabza Ho Diloon Per Kia

A Hamad By Altaf Hussain Hali

قبضہ ہو دلوں پر کیا اور اس سے سوا تیرا

اک بندۂ نا فرماں ہے حمد سرا تیرا

گو سب سے مقدم ہے حق تیرا ادا کرنا

بندے سے مگر ہو گا حق کیونکہ ادا تیرا

محرم بھی ہے ایسا ہی جیسا کہ ہے نامحرم

کچھ کہہ نہ سکا جس پر یاں بھید کھلا تیرا

جچتا نہیں نظروں میں یاں خلعت سلطانی

کملی میں مگن اپنی رہتا ہے گدا تیرا

عظمت تری مانے بن کچھ بن نہیں آتی یاں

ہیں خیرہ و سرکش بھی دم بھرتے سدا تیرا

تو ہی نظر آتا ہے ہر شے پر محیط ان کو

جو رنج و مصیبت میں کرتے ہیں گلا تیرا

نشہ میں وہ احساں کے سرشار ہیں اور بیخود

جو شکر نہیں کرتے نعمت پہ ادا تیرا

آفاق میں پھیلے گی کب تک نہ مہک تیری

گھر گھر لئے پھرتی ہے پیغام صبا تیرا

ہر بول ترا دل سے ٹکرا کے گزرتا ہے

کچھ رنگ بیاں حالیؔ ہے سب سے جدا تیرا

الطاف حسین حالی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از الطاف حسین حالی