اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

تیرے افسانے سناتے ہیں مجھے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

تیرے افسانے سناتے ہیں مجھے
لوگ اب بھولتے جاتے ہیں مجھے

قمقمے بزم طرب کے جاگے
رنگ کیا کیا نظر آتے ہیں مجھے

میں کسی بات کا پردہ ہوں کہ لوگ
تیری محفل سے اٹھاتے ہیں مجھے

زخم آئنہ بنے جاتے ہیں
حادثے سامنے لاتے ہیں مجھے

نیند بھی ایک ادا ہے تیری
رات بھر خواب جگاتے ہیں مجھے

تیرے کوچے سے گزرنے والے
کتنے اونچے نظر آتے ہیں مجھے

ان کے بگڑے ہوئے تیور باقیؔ
زیست کی یاد دلاتے ہیں مجھے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button