آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعُظمی جَون

ہر لب پر آوازہ ہے رُسوائی کا

ایک اردو غزل از عُظمی جٙون

ہر لب پر آوازہ ہے رُسوائی کا
تم کو کچھ اندازہ ہے رُسوائی کا ؟

اب تک میری آنکھوں سے خُوں رِستا ہے،
زخم ابھی تک تازہ ہے رُسوائی کا۔

ہونٹوں پر تو سُرخی ہے بدنامی کی،
گالوں پر بھی غازہ ہے رُسوائی کا۔

سُن لو ! شہرِ عشق میں داخل ہونے کا،
بس اِک ہی دروازہ ہے، رُسوائی کا۔

عُظمی ! تیری شُہرت ہر سُو پھیل گئی،
شاید یہ "خٙمیازہ” ہے رُسوائی کا۔

عُظمی جٙون

post bar salamurdu

عُظمی جَون

عُظمی جَون- سِبّی : بلوچستان-دو شعری مجموعوں کے خالق :*خِزاں کی رُت سُنہری ہے**ستارے میرے آنسو ہیں*- پروفیسر/پرنسپل (ریٹائرڈ)- مقامی، صوبائی، ملکی اور عالمی مشاعروں میں شرکت۔ لاتعداد ایوارڈ و اسناد یافتہ۔ *فن اور شخصیت*- *خِزاں کی رُت سُنہری ہے کا فنی جائزہ* - *"خِزاں کی رُت سُنہری ہے" کا تنقیدی جائزہ*- *عُظمی جَون کی شاعری میں روایت و جدیدیت کا تقابلی جائزہ* جیسے عنوانات کے تحت BS, ایم ایس اور M.Phil کی سطح پر تحقیقی مقالہ جات۔ Face Book, YouTube، Instagram جیسے سوشل میڈیا پر Uzmee Jaon کے نام سے چینل اور پیجز۔ریختہ اور گوگل پر مواد موجود۔آذربائیجان میں عارضی رہائش۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button