- Advertisement -

اس سے پھولوں والے بھی عاجز آ گئے ہیں

ایک اردو غزل از ادریس بابر

اس سے پھولوں والے بھی عاجز آ گئے ہیں

تیری خاطر جو گلدستہ ڈھونڈ رہا ہے

دل کو دھکے کھاتے نکالے جاتے دیکھ کے

ساحل اپنا پکا دریا ڈھونڈ رہا ہے

تسمہ کھلا جیسے آزاد تلازمہ ہو واہ

ایک پہن کے دوسرا جوتا ڈھونڈ رہا ہے

اس کے فلیٹ سے باہر کوئی دور کا دوست

پاس کے بس اسٹاپ کا رستہ ڈھونڈ رہا ہے

بس کر دے اب، کب سے مطلع ڈھونڈ رہا ہے

کیا کوئی تیسرا چوتھا مصرع ڈھونڈ رہا ہے

ایم اے کیے بنت موچی کو چوتھا سال ہے

تب سے وہ جاب اور کرمو رشتہ ڈھونڈ رہا ہے

ہر مصنوعی پنکھا جھوٹا میک اپ کر کے

ذات کی شہر پناہ میں رخنہ ڈھونڈ رہا ہے

لیمپ جلاتے اور بجھا کے پھر سے جلاتے

یا وہ مجھے گم کرتا ہے یا ڈھونڈ رہا ہے

پارٹی ٹھپ مہمان خصوصی شاعر اعظم

پتلی گلی میں پان کا کھوکھا ڈھونڈ رہا ہے

یارو بیٹھے نہریں کھودو باتیں چھوڑو

میں اسے ڈھونڈ لوں مجھے جو تنہا ڈھونڈ رہا ہے

اک لڑکی اپنے لیے لڑکی ڈھونڈ رہی ہے

اک لڑکا اپنے لیے لڑکا ڈھونڈ رہا ہے

موبائل پر ایپ لگاؤ کام چلاؤ

کون پرانے شہر کا نقشہ ڈھونڈ رہا ہے

روزے رکهواؤ کھلواؤ جنت پاؤ

بندہ تو دو وقت کا کھانا ڈھونڈ رہا ہے

میری اکلوتی ٹی شرٹ پہ قبضہ جمائے

اچھا روم میٹ اپنا کچھا ڈھونڈ رہا ہے

کھل کھلا کے لوڈ شیڈنگ سے فیض اٹھا کے

یوسف جانی تجھے یہ اندھا ڈھونڈ رہا ہے

گدلے پانی سے دھلتے اسٹیشن پر کس کو

گرما گرم سی چائے کا پیالہ ڈھونڈ رہا ہے

سینے پر دو قبروں کے تعویذ بندھے ہیں

بچ کر، دھوپ! مجھے اک سایہ ڈھونڈ رہا ہے

یو ای ٹی میں چهٹیاں ہونے والی ہیں دوست

کون سا ہاسٹل کس کا کمرہ ڈھونڈ رہا ہے

ادریس بابر

  1. طارق اقبال حاوی کہتے ہیں

    عمدہ کلام

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از ادریس بابر