موت کچھ بھی نہیں بگاڑ سکی
مار ڈالا ہے زندگی نے مجھے
جس کو بھیجے ہیں پھول تحفے میں
خار بھیجے ہیں اُس کلی نے مجھے
آبلہ پائی اور رسوائی
یہ دیا ہے تیری گلی نے مجھے
تشنہ لب میں گیا کنارے پر
ریت ہی ریت دی ندی نے مجھ
میں اندھیرے میں دیکھ سکتا ہوں
روشنی دی ہے تیرگی نے مجھے
اس لئے میں خموش رہتا ہوں
شعر بخشے ہیں خامشی نے مجھے
موت رہتی ہے میرے پہلو میں
پر سنبھالا ہے زندگی نے مجھے
زین محکم








