- Advertisement -

رئیس امروہوی | رئیس شہر سخن

وحید احمد کا ایک اردو کالم

رئیس امروہوی ہمہ جہت ادیب تھے۔ وہ عالم، شاعر، محقق، مافوق الفطرت قوتوں کے توضیح کار، ماہر تحلیل نفسی، اتالیق مراقبہ، یوگی، صحافی اور قطعہ نگار تھے۔ وہ کئی دہائیاں جنگ اخبار میں قطعات لکھتے رہے۔ اتنے بڑے عالم اور ادیب کی ہم لوگوں نے بس یہ معمولی سی صحافتی پہچان بنا دی۔ جون ایلیا کے بڑے بھائی تھے۔ انہوں نے رئیس اکیڈمی بنائی جہاں لکھاریوں کی اخلاقیات صیقل کی جاتی تھیں۔ امروہہ میں 12 ستمبر 1914 کو پیدا ہوئے۔ 22 ستمبر 1988 میں کراچی میں قتل کر دیئے گئے۔ جس دہشت گرد اور انتہا پسند نے گولی ماری، اسے ان کا مسلک اور مہاجر ہونا کھلتا تھا۔ یعنی ہمہ جہت تو وہ بھی انہیں سمجھتا تھا مگر دیکھتا بندوق کی نالی سے تھا۔ قاتل کو کسی نے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ پاکستان کو سرزمین پاک کہتے تھے۔
رئیس امروہوی بےپناہ ادیب تھے۔ مثنوی لالہ صحرا، مراقبہ، مقالات اچھے میاں، انا من الحسین کے علاوہ ان کی تصنیفات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ ایک سے ایک نادر اور ایک سے ایک علم و دانش کا شاہکار۔ ان کے انداز تحریر کا ایک نمونہ تو دیکھئے جو "مقالات اچھے میاں” کا تعارف ہے:
"بخوبی یاد ہے کہ 29 اکتوبر کو اس جگر خستہ ء تیغ حوادث نے سرزمین پاک پر قدم رکھا۔ اور دوسرے روز سب سے پہلے جن بزرگوار فضیلت آثار کے دیدار کی سعادت نصیب ہوئی وہ مرزا جعفر زٹلی رحمتہ اللہ علیہ کے دودمان عالی شان کے چشم و چراغ اور مرزا پھویا اعلی اللہ قامہ کے گھرانے کے برخوردار سعادت آثار، طوطی ء شکرستان معانی و بلبل ہزار داستان ہمہ دانی، مسند نشین محفل فصاحت و شہسوار عرصہ ء بلاغت حضرت نواب اچھے مرزا صاحب قبلہ بالقابہ و مد ظلہ تھے۔ شاعری ان کی کنیز زاد، ادب ان کا بندہ ء بے دام اور خطابت ان کی حاجب حاضر باش ہے”
تففن طبع کے طور پر عرض ہے کہ بعض اوقات میرے ذہن میں ایک شگفتہ سا خیال آتا ہے۔ یونہی دل لگی ہے۔ رئیس امروہوی کا رکھ رکھاو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ اگر مولانا محمد حسین آزاد امروہوی صاحب کی سوانح بیان کرتے تو کیا لکھتے۔ شاید کچھ یوں رقم طراز ہوتے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید محمد مہدی نام مگر رئیس کہلاتے تھے۔ خاندان امروہہ کے چراغ و چشم، طلسماتی چہرہ مہرہ، چھریرا بدن، رندانہ اور آزادانہ وضع رکھتے تھے۔ اور اس لئے کہ خاندان کا تمغہ بھی قائم رہے، کچھ رنگ فقیری کا بھی تھا۔ بٹوارے میں مہاجر ہوئے اور کراچی مسکن کیا۔ کل سہ پہر کلفٹن میں رنگیلی فٹن میں براجمان آ رہے تھے۔ سامنے سے ہم تام جھام سے گزرے۔ روک کر پوچھا کدھر کے ارادے ہیں۔ فرمایا کہ برادر خورد جون ایلیا کو مشاعرے سے چھڑوانے جا رہے ہیں۔ اسی دوران لوگوں نے رئیس امروہوی کو کیا دیکھا کہ کوئی ہوا دار سے اترا تو کوئی پالکی سے۔ کسی نے اپنا موٹر روکا تو کسی نے اسپ تازی کو لگام دی۔ ہر اک کی زبان پر بس یہی کلمہ ء حیرت تھا۔۔۔۔ ارے، یہ تو رئیس ہیں !!!
رئیس نابغہ روزگار ہیں ۔ زمانے کو ان کی تصاویر مضمون کی قدر ہی نہیں پرستش کرنا چاہیے تھی۔ مگر ہم نے جانتے بوجھتے ہوئے انہیں اخباری قطعات تک محدود کر دیا۔ اب اسے نقادوں اور تجزیہ نگاروں کوتاہ بینی کہہ لیجئے یا چشم پوشی یا پھر دانستہ بے نیازی اور نا انصافی کہ یہ فریب ساز لوگ قاری کو جون ایلیا سے آگے دیکھنے ہی نہیں دیتے حالانکہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ رئیس امروہوی دودمان امروہہ کے سب سے بڑے ادیب ہیں۔ ذرا ادبی اسٹیبلشمنٹ اور ان کے حاشیہ برداروں سے پوچھئے کہ کیا اب آبرو مندوں کو پذیرائی کے خود ساختہ نقار خانے میں طبل و نقارہ سے زیادہ بلند آواز ہونا پڑے گا ؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رئیس امروہوی کی قادرالکلامی اور عالمانہ سخن طرازی کی ایک مثال ایک آڈیو وڈیو کلپ کی صورت میں پیش خدمت ہے۔ یہ ایک نظم ہے جو انہوں نے حضرت جوش ملیح آبادی کی عارضی ترک مے نوشی کی اندوہناک خبر سن کر لکھی تھی۔ آپ دیکھئے کہ رئیس امروہوی کتنے وسیع المطالعہ تھے اور انہیں تاریخ اور دیگر علوم پر کتنا عبور تھا۔ نظم استعجابیہ چلن میں مثنوی کی طرز پر لکھی گئی ہے۔ کلام کی پختگی مولانا الطاف حسین حالی کے اس دعوی کی تائید کرتی ہے جو انہوں نے مقدمہ شعر و شاعری میں کیا ہے۔ مولانا مقدمے میں لکھتے ہیں:
” الغرض جتنی صنفیں فارسی اور اردو شاعری میں متداول ہیں ان میں سے کوئی صنف مسلسل مضامین بیان کرنے کے قابل مثنوی سے بہتر نہیں ہے۔ یہی وہ صنف ہے جس کی وجہ سے فارسی شاعری کو عرب کی شاعری پر ترجیح دی جا سکتی ہے”۔
تو ملاحظہ کیجیے رئیس امروہوی کی نظم "جوش اور ترک مے”۔ صنعت تلمیح کا حسن دیکھئے۔ قصیدے کا جوش، رزمیہ کا طنطنہ اور غزل کی تلازمہ کاری اور ایمائیت ملاحظہ کیجیے۔ مصرع سازی، نشست الفاظ اور تراکیب کا شکوہ دیکھئے۔
یہ نظم مجھے میرے پیارے دوست اور ممتاز شاعر سید ایاز محمود نے کراچی سے بھیجی۔ پنجابی کے شاندار شاعر قمر زمان بھائی نے اس کی تزئین و آرائش کی اور اسے آڈیو وڈیو کی شکل دی۔ میں اپنے عزیز دوستوں کا شکر گزار ہوں۔

وحید احمد
28 جولائی 2022

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
افتخار شاہد کی ایک غزل