بے چارہ دکھ روز آتا ہے
میری دہلیز پر
کسی اجنبی فقیر کی طرح
ہاتھ میں خالی کٹورا لیے
جس میں وقت کے سکّے نہیں
یادوں کے کنکر بجتے ہیں
وہ مجھ سے خیرات نہیں مانگتا
وہ مجھ سے میری مسکراہٹ گروی رکھوا لیتا ہے
میری نیند کے نوٹ پھاڑ کر لے جاتا ہے
اور میرے دل کی جیب میں
ادھورے سوال ڈال دیتا ہے
کبھی وہ صدیوں پرانا آسیب لگتا ہے
کبھی تازہ بارش کے بعد
کیچڑ میں چھپا ہوا سایہ
اس کے کپڑوں پر کرب کے پیوند ہیں
اور اس کی آنکھوں میں شکستہ باتوں کی کرچیاں
میں سوچتی ہوں
یہ فقیر کون ہے؟
میری اپنی تنہائی کا ہمزاد
یا خدا کا بھیجا ہوا سوال؟
جو ہر روز دہلیز پر آ کر
چپ کی خیرات مانگتا ہے
دکھ کے جانے کے بعد بھی
کٹورا خالی نہیں ہوتا
اس میں وقت اپنی پژمردہ سانسیں رکھ دیتا ہے
اور میں جان لیتی ہوں
کہ دکھ دراصل رخصت نہیں ہوتا
بس اپنی شکل بدل کر
میرے اندر ٹھہر جاتا ہے!!
نجمہ منصور








