آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعرینجمہ منصور

بے چارہ دکھ

ایک اردو نظم از نجمہ منصور

بے چارہ دکھ روز آتا ہے
میری دہلیز پر
کسی اجنبی فقیر کی طرح
ہاتھ میں خالی کٹورا لیے
جس میں وقت کے سکّے نہیں
یادوں کے کنکر بجتے ہیں

وہ مجھ سے خیرات نہیں مانگتا
وہ مجھ سے میری مسکراہٹ گروی رکھوا لیتا ہے
میری نیند کے نوٹ پھاڑ کر لے جاتا ہے
اور میرے دل کی جیب میں
ادھورے سوال ڈال دیتا ہے

کبھی وہ صدیوں پرانا آسیب لگتا ہے
کبھی تازہ بارش کے بعد
کیچڑ میں چھپا ہوا سایہ
اس کے کپڑوں پر کرب کے پیوند ہیں
اور اس کی آنکھوں میں شکستہ باتوں کی کرچیاں

میں سوچتی ہوں
یہ فقیر کون ہے؟
میری اپنی تنہائی کا ہمزاد
یا خدا کا بھیجا ہوا سوال؟
جو ہر روز دہلیز پر آ کر
چپ کی خیرات مانگتا ہے

دکھ کے جانے کے بعد بھی
کٹورا خالی نہیں ہوتا
اس میں وقت اپنی پژمردہ سانسیں رکھ دیتا ہے
اور میں جان لیتی ہوں
کہ دکھ دراصل رخصت نہیں ہوتا
بس اپنی شکل بدل کر
میرے اندر ٹھہر جاتا ہے!!

نجمہ منصور

post bar salamurdu

نجمہ منصور

نجمہ منصور ۹نومبر ۱۹۶۶ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ ۱۹۸۰ء میں میٹرک گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سرگودھا سے کیا اور ایم۔اے تاریخ اور ایم۔اے ایجوکیشن کی ڈگری بھی حاصل کی۔ نجمہ منصور بنیادی طور پر نثری نظم کی شاعرہ ہیں شاعری کا آغاز کالج دور سے ہوا۔ پہلی کتاب 1990 میں شائع ہوئی مگر ان کا علمی و ادبی سفر صرف شاعری تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ایک بہترین ریسرچ اسکالر کے طور پر بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہیں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہی ہیں ان کی ایک کتاب ،، اگر نظموں کے پر ہوتے ،، کا ترجمہ انگریزی زبان میں بھی ہو چکا ہے۔ ان کی تقریباً دو درجن کے لگ بھگ کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button