آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتعاصمہ فراز

زندہ رہنے کو بھی لازم ہے سہارا کوٸی

عاصمہ فراز کی اردو غزل

زندہ رہنے کو بھی لازم ہے سہارا کوٸی
کاش مل جاٸے غمِ ہجر کا مارا کوٸی

ہے تری ذات سے مجھ کو وہی نسبت جیسے
چاند کے ساتھ چمکتا ہو ستارا کوٸی

یہ محبت تو کسی پار نہ لگنے دے گی
یہ وہ دریا ہے نہیں جس کا کنارا کوٸی

کیسے جانو گے کہ راتوں کا تڑپنا کیا ہے
تم سے بچھڑا جو نہیں جان سے پیارا کوٸی

ہم محبت میں بھی قاٸل رہے یکتاٸی کے
ہم نے رکھا ہی نہیں دل میں دوبارہ کوٸی

سوچتی ہو ں ترے پہلو میں جو بیٹھا ہوگا
کیسا ہوگا وہ پری وش وہ تمہارا کوٸی

کون بانٹے گا مرے ساتھ مری تنہاٸی
ڈھونڈ کر لادے مجھے زیست سے ہارا کوٸی

عاصمہ فراز

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button