- Advertisement -

جدید اردو ڈرامے کے خالق امتیاز علی تاجؔ

تحریر: آبیناز جان علی

جدید اردو ڈرامے کے خالق امتیاز علی تاجؔ

سید امتیاز علی تاجؔ 13 اکتوبر 1900کو لاہور کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ محمدی بیگم بچوں کے لئے کہانیاں اور عورتوں کے لئے مضامین لکھا کرتی تھیں۔ تاجؔ کے اباؤ اجداد کا تعلق بخارا سے تھا جو مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں ہندوستان آکر دیوبند ضلع سہارنپور میں بس گئے تھے۔ ان کے دادا سید ذوالفقار علی نے سینٹ اسٹیفنز کالج دہلی سے تعلیم حاصل کی اور امام بخش صہبائی ان کے استاد تھے۔

تاجؔ کابچپن ماں کی کہانیاں اور لوریاں سنتے ہوئے گزرا۔ تاجؔ کے والد شمس العلما مولوی ممتاز علی عربی اور فارسی کے عالم تھے۔ وہ انگریزی اور اردو زبان پر بھی مہارت رکھتے تھے۔ غدر کے بعد مسلمانوں کو شدید جدوجہد کرنی پڑی۔ جس کا احساس سرسید احمد خان کو بہت تھا۔ شمس العلما مولوی ممتاز علی اس زمانے میں سہارنپور سے فارغ التحصیل تھے۔ وہ بھی سرسید تحریک کا حصّہ تھے۔ سرسید چاہتے تھے کہ تعلیم یافتہ مسلمان میں اپنے حقوق کی بیداری پیدا ہو۔ اس سوچ کے تحت مولوی ممتاز علی لاہور منتقل ہوگئے جہاں انہیں لاہور ہائی کورٹ میں مترجم کا کام مل گیا۔ آپ عدالتی فیصلوں کا اردو زبان میں ترجمہ کا کام کرنے لگے۔ وہاں سے ترقی کرتے ہوئے ریڈر بھی بنے۔

سرسید احمد خان سے ان کا احترام کا رشتہ تھا لیکن اس بات پر اختلاف بھی تھا کہ جب تک خاندان کی خواتین کوتعلیم سے مرصع نہیں کیا جائے گا خاندان آگے نہیں چل پائے گا۔ لڑکے اکیلے کامیاب نہیں ہوسکتے کیونکہ گھر سے ہی ساری تربیت اور تہذیب کا احساس گھر کی خواتین سے ہی ملتا ہے۔ مولوی ممتاز علی نے 1958 میں دار الاشاعت کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔ اس کے لئے انہوں نے ملازمت ترک کردی۔ مولوی ممتاز علی سہارنپور کے زمیندار تھے اور انہیں اس زمانے میں سرکار سے پانچ سو روپے ماہانہ ملتا تھا۔ آج کے زمانے میں یہ رقم پانچ لاکھ کے برابر ہے۔ محمدی بیگم اس رسالے کی مدیرہ بنیں۔ ان سے پہلے اردو کے کسی رسالے میں کسی خاتون نے یہ عہدہ نہیں سنبھالا تھا۔

کراچی کے نیشنل میوزیم میں موجود خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ سرسید احمد خان نے اس رسالے کے شائع ہونے پرشدید اختلاف کیا۔ خط میں سرسیدنے کہا کہ اس راستے پر چلنے سے رسوائی، بدنامی اور انتہائی کسمپرسی کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ ممتاز علی نے رسالے کا خاکہ بنا کر سرسید کو بھیجا اور ان کی دعائیں طلب کیں۔ سرسید کے کہنے پر انہوں نے رسالے کا نام ’تہذیب ِ نسواں‘رکھا اور سر سید نے یہ بھی بتایا کہ ممتاز علی کو تہذیب فروش بھی کہا جائے گا۔ پھر بھی وہ اپنے ارادے پر قائم رہے اور ان کا ماننا تھا کہ خواتین کی تعلیم مسلمانوں کی بہتری، خاندان کی ترقی اور قوم کے لئے اشد ضروری ہے۔

تہذیبِ نسواں کا مقصدخواتین میں اپنے حقوق کا شعور پیدا کرنا اوردین و دنیوی معلومات کا علم پہنچانا تھا اور یہی اس کی بے پناہ مقبولیت کی وجہ بنی۔ محمدی بیگم جو کہانیاں اور لوریاں تاجؔ کو سنایا کرتی تھیں وہ بھی دار الاشاعت نے شائع کی تھیں۔ تاجؔ کی عمر آٹھ برس کی تھی جب تیس سال کی عمر میں ان کی والدہ محمدی بیگم کا انتقال ہوگیا۔ تاجؔ کی نویں سالگرہ پر ممتاز علی نے بچوں کے لئے ہفت روزہ رسالہ ’پھول‘ کا اجراء کیا۔ ’تہذیبِ نسواں‘کی طرح’پھول‘ بھی ادب کا ایک ستون بن گیا۔ دارالاشاعت کے لئے ادب کے نامی گرامی مصنف اور شاعر لکھتے رہے۔ ان میں مولانا حالی، خواجہ حسن نظامی، مولانا شبلی نعمانی، علامہ اقبال، قرۃ العین حیدر، پطرس بخاری، اکبر اللہ آبادی، ڈپٹی نظیر احمد وغیرہ تھے۔

ان عظیم ہستیوں کی جھرمٹ میں تاجؔ کی تخلیقی حس اجاگر ہوئی۔ بچپن سے امتیاز علی تاجؔ کو شاعری کا شوق تھا اور غزلیں اور نظمیں کہتے تھے۔ 1915 تاجؔ نے سنٹرل ماڈل اسکول لاہور سے میٹرک پاس کیا اور اسی سال افسانہ نگاری میں قدم رکھا۔ سترہ سال کی عمر میں ’شمع اور پروانہ‘ کے عنوان سے پہلا افسانہ لکھا۔ اسی سال تاجؔ گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوگئے۔ ابھی فرسٹ ائیر میں ہی تھے کہ ڈراماٹکس کلب کے سالانہ کھیل میں ایک کردار میں منتخب ہوگئے۔ اس ڈرامے کا ناام صیدِ ہوس تھا۔ یہ آغا حشر کا لکھا ہوا ڈرامہ تھا۔ امتیاز علی تاجؔ کاآغا حشر سے خاص ربط تھا۔ اس ڈرامہ میں تاجؔ نے ایک لڑکی کا کردار ادا کیا۔ ان کی ادکاری اس قدر پسند کی گئی کہ تاج کی ایکٹنگ کے چرچے ہر طرف ہونے لگے۔

ہندوستانی ڈرامہ اور مغربی ڈراموں کا مطالعہ امتیاز علی تاجؔ کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ اپنے کالج کے ڈراماٹکس کلب کے لئے برناڈ شااورترنڑ جیسے ڈرامہ نویس کے ڈرامے پطرس بخاری کے ساتھ مل کر اردو میں ترجمہ کیا اور شیکسپیئر کے ڈراموں کا بھی ترجمہ کیا۔ امتیاز علی تاجؔ نے آسکروائلڈ، گولڈ اسمتھ، ڈیم تریوس، مدرس تیول، کرسٹین گیلرڈ کی کہانیوں کے ترجمے بھی کئے ہیں۔تاجؔ نہ صرف گورنمنٹ کالج ڈراماٹکس کلب کے ہر سالانہ کھیل کاحصّہ بنے رہے بلکہ دوسری طرف اپنی ادبی دلچسپی پر بھی کام کرتے رہے۔ انہوں نے انیس سو اٹھارہ میں برِ صغیر کا پہلا ادبی رسالہ ’کہکشاں‘ کے نام سے جاری کیا اور تقریباً ڈھائی سال تک اسے کامیابی سے چلایا۔ابتدا میں تاجؔ نے بھی روایت کے مطابق کچھ ڈرامے لکھ کر کمپنیوں کے مالکان کو بھیجے تاکہ انہیں اسٹیج کیا جاسکے۔ وہ ڈرامے پسند تو کئے گئے مگر انہوں نے ایسی ترمیمات کا تقاضہ کیا جو امتیاز علی تاجؔ کو پسند نہ آئیں۔ چنانچہ انہیں اسٹیج نہیں کیا جاسکا۔1921 میں تاجؔ نے گورنمنٹ کالج میں بی۔اے کیا۔ اسی دوران انہوں نے ڈرامہ انارکلی لکھا جو 1930 میں شائع ہوا۔

امتیاز علی تاجؔ کا ڈرامہ انارکلی اردو ڈرامے کے ارتقاء میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ قدیم اور جدیدروایتوں کا سنگم ہے۔ ایک طرف قدیم ڈرامے کی روایت پارسی تھیٹریکل کمپنیوں کے زوال کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی تو دوسری طرف جدید اردو ڈرامہ تھیٹر کی نئی روایتوں کے ساتھ ایک نیا موڑ لے رہا تھا۔ انارکلی میں ہمیں دونوں روایتوں کے اثرات ملتے ہیں۔ امتیاز علی تاجؔ چونکہ قدیم و جدید ڈرامے کی روایتوں کے فکری و ہنی تقاضوں سے کما حقہ روشناس تھے اس لئے انہوں نے ان دونوں سے استفادہ کرتے ہوئے اردو کو ایک ایسا شاہکار دیا جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔1928 میں انارکلی پر مبنی خاموش فلم Love of a Moghul Prince میں تاجؔ صاحب نے شہنشاہ اکبر کا کردار ادا کیا۔ آنے والے برسوں میں انارکلی کی کہانی پر متعدد فلموں بنیں جن میں سب سے زیادہ مقبولیت کے آصف کی فلم مغلِ اعظم نے پائی۔جتنی مقبولیت انارکلی کو برِ صغیر پاک و ہند میں حاصل ہے شاید اتنی مقبولیت ہیلن آف ٹرائے کو یونان اور پورپ میں حاصل نہیں ہوئی۔

امتیاز علی تاج مزاح نگاری کی طرف بھی مائل ہوئے۔ چچا چھکن کا سلسلہ مضامین آج بھی اردو کے مزاحیہ ادب میں غیرفانی سمجھا جاتا ہے۔ چچا چھکن کتابی شکل میں شائع ہوا۔ قدسیہ زیدی نے چچا چھکن کے مضامین کو ڈرامائی شکل دی۔ امتیاز علی تاج ؔصحافی بھی تھے۔ اس کے علاوہ گاندھی جی کی سوانح بھی لکھی جس کا دیباچہ ہنڈت موتی لال نہرو نے لکھا تھا۔ تاجؔ نے محمد حسین آزاد، حفیظ جالندھری اور شوکت تھانوی پر بھی مضامین لکھے۔ تاجؔ کے لکھنے کا انداز سادہ ہے جس سے پڑھنے اور سننے میں لطف پیدا ہوتا ہے۔

1930 سے 1947 درمیان سید امتیاز علی تاجؔ کی فنی اور ذاتی زندگیوں میں تبدیلیاں آئیں۔ حجاب اسمٰعیل سے شادی اور بیٹی یاسمین کی پیدائش سے انہیں اطمینان اور یکسوئی ملی جبکہ ان کی تخلیقی زندگی میں عروج ہوا۔ تاجؔ صاحب نے ریڈیو اور فلم جیسے نئے ذرائع اظہار میں بھی کام کیا۔ ایک طرف ریڈیو کے لئے ’سازش‘، ’گونگی جوڑو‘، ’صید و صیاد‘، ’میری جان کس نے لی؟‘،’کمرہ نمبر5‘ او’ر قرطبہ کا قاضی‘ جیسے یادگار ریڈیو پلے لکھے۔ قیامِ پاکستان سے پہلے جب فلموں میں آوازیں آنے لگیں تاجؔ نے ان کے لئے تقریباً بیس فلموں کی کہانیاں، مکالمے اور اسکرین پلے لکھے۔ ان میں ’پگڈنڈی‘، ’پونجی‘، ’زمیندار‘، ’دھمکی‘ اور ’خاندان‘ نے کامیابی کا ریکارڈ قائم کیا۔ تاجؔ نے ریڈیو کے لئے دو درجن سے زیادہ ڈرامے لکھے اور فیچرز لکھے اور پارٹ بھی ادا کیا۔ تقسیمِ ہند سے قبل پنچالی فلم کمپنی کے لئے دو فلمیں ’دھمکی‘ اور ’شہر سے دور‘ تیار کیں جو مقبول ہوئیں۔1947 میں قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سید امتیاز علی تاجؔ نے ریڈیو پاکستان لاہور پر ’پاکستان ہمارا ہے‘ کے نام سے یادگار پروگرام شروع کیا۔ اس پروگرام کا مقصد مہاجرین کو ان کے لواحقین تک پہنچانا اور معاشرے میں مہاجرین کو اپنائیت کا احساس دلانا تھا۔

1950 کی دہائی میں پاکستان فلم انڈسٹری کی ابتدا ہوئی۔ سید امتیاز علی تاجؔ نے کئی یادگار فلمیں لکھیں جن میں ’گلنار‘، ’انتظار‘ اور’یہودی کی لڑکی‘ بہت کامیاب ہوئے۔ ان کے دیگر ڈراموں کے نام ہیں: سوئے کہاں، آداب عرضِ،گونگی جوڑو، تلی پھٹ گئی، خانو اور جانو، حریمِ قلب، کمرہ نمبر ۵، ورجینیا، دلھن، قسمت، روشن آرا، شاہ جہاں، بازارِ حسن، نکاح ثانی اور آخر ی رات۔ ’ستارہ‘ ان کا آخری ڈرامہ ہے۔ اس ڈرامے میں ایک شادی شدہ مرد ایک جوان ہندو لڑکی سے عشق کرتا ہے۔ اس زمانے میں ایسی موضوعات پر قلم اٹھانا بعید از قیاس تھا۔ لیکن تاجؔ صاحب اپنے وقت سے آگے تھے۔ 1958 تاج صاحب کو مجلس ترقی ادب کا ڈائریکٹڑ مقرر کیا گیا۔ایسے میں تاجؔ صاحب نے قدیم تھیٹر کے کلاسیکی ڈراموں کے ترتیب اور اشاعت کا بیڑا اٹھایا۔ مجلس ترقی ادب نے تاجؔ صاحب کی رہنمائی میں دس سال میں تقریباََ دو سو کتابیں شائع کیں۔ قدیم اردو تھیٹر کے ڈرامے کو مرتب کرنے کی ایسی مثال پورے برِ صغیر میں نہیں ملتی۔

13 اکتوبر 1970 کو نقاب پوش حملہ آوروں نے چھت پر سوتے ہوئے تاجؔ صاحب پر قاتلانہ حملہ کیا اور وہ ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔

تحریر: آبیناز جان علی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
صباحت اروج کی ایک نظم