ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر طرف تبدیلی کی بات تو ہوتی ہے مگر عملی طور پر کچھ بدلتا ہوا نظر نہیں آتا۔ ہر شخص نظام کو کوستا ہے، حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے، حالات کا رونا روتا ہے، مگر کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اصل تبدیلی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہر بڑا انقلاب سوچ سے جنم لیتا ہے، اور جب تک سوچ نہیں بدلے گی، حالات کبھی نہیں بدلیں گے۔
ہماری سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم نے ذمہ داری کو ہمیشہ دوسروں پر ڈالنا سیکھ لیا ہے۔ اگر مہنگائی ہے تو حکومت قصوروار، اگر بے روزگاری ہے تو نظام خراب، اگر ناانصافی ہے تو ادارے ناکام۔ یہ سب اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ہم خود کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی خود احتسابی کی؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم اپنے حصے کا کتنا کردار ادا کر رہے ہیں؟
ہم روزمرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی غلطیاں بڑے مسائل کو جنم دیتی ہیں۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، لائن توڑنا، جھوٹ بولنا، سفارش کروانا، یہ سب بظاہر معمولی باتیں لگتی ہیں مگر درحقیقت یہی وہ بیج ہیں جن سے بدعنوانی اور ناانصافی کا درخت اگتا ہے۔ جب ایک معاشرہ چھوٹی برائیوں کو قبول کر لیتا ہے تو بڑی برائیاں خود بخود جنم لے لیتی ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاست صرف حکمرانوں کا نام نہیں بلکہ ہم سب کا مجموعہ ہے۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرے تو معاشرہ خود بخود بہتر ہو سکتا ہے۔ ایک استاد اگر دیانتداری سے پڑھائے، ایک ڈاکٹر اگر خلوص سے علاج کرے، ایک تاجر اگر انصاف سے کاروبار کرے اور ایک عام شہری اگر قانون کی پاسداری کرے تو کسی انقلاب کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، کیونکہ تبدیلی خود بخود آ جائے گی۔
آج کا نوجوان خاص طور پر ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جس کے پاس توانائی بھی ہے، تعلیم بھی اور مواقع بھی۔ مگر بدقسمتی سے یہی نوجوان اکثر مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اس کے اکیلے کے کرنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔ یہی سوچ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ چند لوگوں کی سوچ نے پوری قوم کا رخ بدلا ہے۔
ہمیں اپنی گفتگو، اپنے رویے اور اپنے فیصلوں میں سچائی اور دیانت کو شامل کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف کتابی علم نہیں بلکہ اخلاقی تربیت بھی دینی ہوگی۔ ہمیں یہ سکھانا ہوگا کہ کامیابی صرف پیسہ کمانے کا نام نہیں بلکہ ایک اچھا انسان بننے کا نام ہے۔
سوشل میڈیا نے ہمیں ایک پلیٹ فارم تو دیا ہے، مگر ہم نے اسے زیادہ تر تنقید، شکایت اور وقت ضائع کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اگر ہم اسی پلیٹ فارم کو مثبت سوچ پھیلانے، شعور بیدار کرنے اور سچ کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کریں تو یہ ایک طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تبدیلی کسی جادو کی چھڑی سے نہیں آئے گی۔ نہ ہی کوئی ایک لیڈر یا ایک ادارہ سب کچھ ٹھیک کر سکتا ہے۔ اصل انقلاب اس دن آئے گا جب ہم میں سے ہر فرد اپنی سوچ کو بدلنے کا فیصلہ کرے گا۔ جب ہم شکایت کے بجائے عمل کو ترجیح دیں گے، جب ہم دوسروں کو بدلنے کے بجائے خود کو بدلیں گے، تب ہی ایک نیا اور بہتر معاشرہ وجود میں آئے گا۔
کیونکہ یاد رکھیں،
انقلاب نعروں سے نہیں، سوچ سے آتا ہے۔
خیر اندیش
نعمان علی بھٹی








