آپ کا سلاماردو تحاریرتحقیق و تنقیدغنی الرحمٰن انجممقالات و مضامین

امین جالندھری کا ” شہر نامہ دوم”

غنی الرحمٰن انجم کی ایک اردو تحریر

جدید ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کی انقلاب آفرین سہولتوں نے کائنات کے وسیع و عریض فاصلوں کو سمیٹ کر ایک ‘گلوبل ویلج’ کی شکل دے دی ہے۔ آج کا انسان زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو چکا ہے لمحوں میں پیغام رسانی اور دنیا کے کونے کونے سے فوری رابطوں نے انسانی میل جول اور تعلق کو اس قدر آسان بنا دیا ہے کہ پوری دنیا اب ایک چھت تلے سمٹی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ بلا شبہ، یہ انٹرنیٹ کی تیز رفتار کرشمہ سازی ہی ہے جس نے دوریوں کو قربتوں میں بدل کر ہمیں ایک نئے اور مربوط عہد سے روشناس کرایا ہے۔
اس عالمی و سماجی رابطے کی ایک زندہ اور عملی مثال، حیدرآباد کی معروف ادبی شخصیت، نامور ادیب، کالم نگار اور نابغہ روزگار شخصیت محترم امین جالندھری صاحب سے میری شناسائی، ادبی رفاقت اور تعلق ہے اور اسی ادبی تعلق کے تسلسل میں، امین جالندھری صاحب نے ازراہِ کرم اپنی کتاب ”شہرنامہ دوم” مجھے بذریعہ ڈاک ارسال فرمائی، جس پر ان کے قیمتی الفاظ اور دستخط ثبت ہیں۔ اس محبت اور علمی عنایت کے لیے میںshehar naama ان کا بے حد ممنون و متشکر ہوں۔
یوں تو سب امین جالندھری کو حیدرآباد کی ایک معروف ادبی شخصیت کے طور پر جانتے ہیں مگر اب ایسا نہیں ہے کیوں کہ اب ان کا ادبی کام انکی ادبی خدمات صرف حیدرآباد تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کے نام کو پاکستان سمیت پوری دنیا میں ان کے ادبی کام کی نسبت سے پہچان اور پذیراٸی ملی ہے ۔
اب اگر یہ کہا جاۓ کہ حیدرآباد کے ادبی محفلوں کی تاریخ اور تذکرے سے حیدرآباد یا کراچی سے باہر کے لوگوں کا کیا لینا دینا تو ایسا بلکل بھی نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ادب کا رشتہ بنیادی طور پرانسانی رویوں سے جڑا ہوا ہے کیونکہ ادب کی بنیادی اساس ہی انسانی رویٸے ہیں جسے ادب کے مختلف اصناف میں مختلف انداز سے زیر بحث لایا جاتا ہے اور یہ انسانی رویٸے دنیا کے تمام انسانوں کے کسی نا کسی طور یکساں ہوتے ہیں
کیونکہ دنیا کے تمام انسان دکھ درد غم خوشی سچ جھوٹ صحیح غلط وغیرہ کو یکساں محسوس کرتے اور ان تمام رویوں سے یکساں طور پرمتاثر ہوتے ہیں۔
اور "شہر نامہ دوم” پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے نامور لکھنے والوں کے تبصرے اور تعریفی کلمات اس بات کے دستاویزی ثبوت کیلٸے نہ صرف کافی بلکہ قابل ادخال شہادت ہیں۔

امین جالندھری کا قلم گزشتہ کٸی دہائیوں سے معاشرتی اور ادبی اقدار کی پاسبانی کر رہا ہے آپ محض ایک کالم نگار نہیں بلکہ ایک تہذیبی مورخ بھی ہیں جنہوں نے اپنی جوانی کے بھرپور ایام سے لے کر آج کے "عصرِ نفسا نفسی” تک، شہر کی ادبی نبض کو محسوس کیا ہے۔ آپ کے نزدیک ادب کا مقصد ذاتی منفعت یا سستی شہرت نہیں، بلکہ فکری ارتقا، خودداری اور سچائی کی ترویج ہے۔ آپ کا اسلوب سادہ مگر کاٹ دار ہے، جو ایک طرف محبتوں کا امین ہےتو دوسری طرف ادبی بددیانتی اور سرقہ بازی کے خلاف ایک توانا احتجاج بھی ہے۔
"شہر نامہ دوم” امین جالندھری کے ان کالموں اور مضامین کا مجموعہ ہے جو تیس سالہ ادبی محافل کی روداد بیان کرتے ہیں۔ مارچ 2025ء میں منظرِ عام پر آنے والی یہ کتاب حیدرآباد کی علمی و ادبی تاریخ کا ایک اہم ریکارڈ ہے۔ اس کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ ان شخصیات جو آج ہم میں موجود نہیں یا ایسے واقعات کو محفوظ کرتی ہے جو وقت کی گرد میں اوجھل ہو سکتے تھے۔ یہ کتاب صرف ماضی کی یاد نہیں، بلکہ حال کے ادبی بگاڑ کے خلاف ایک احتجاج اور چارج شیٹ بھی ہے جہاں مصنف نے "پی ایچ ڈی” مقالہ جات میں سرقہ بازی اور گروہ بندیوں پر کھل کر جرات مندانہ گفتگو کی ہے۔
ڈاکٹر وصی بیگ بلال
ڈائریکٹر اے سی این ایف کالج آف انجینئر اینڈ مینجمنٹ اسٹڈیز
اتر پردیش، انڈیا
"شہرنامہ دوم” پر تبصرے میں لکھتے ہیں کہ
"ادبی محافل کی روداد ادب کے شائقین کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ شہر نامہ ۲ کے مطالعہ کے بعد ہمارے لیے ملک پاکستان کی ادبی محفلوں کو سمجھنے خصوصی طور پر کراچی شہر کے ادبی ذوق اور شعراء کے کلام کو جاننے کا موقع ملا۔ قابلِ مبارک باد ہیں امین جالندھری صاحب جنہوں نے نہ صرف تیس سالہ ادبی محافل کی روداد بیان کی بلکہ اپنے خاکوں، سفر ناموں اور اشعار کے ساتھ ساتھ ہمیں دور سے ہی شہر کراچی کی سیر کراتے ہوئے وہاں کے ادبی ماحول سے بھی روشناس کرایا۔”

ڈاکٹر شبیر احمد قادری۔ صدر، شعبہ اردو، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی فیصل آباد
"شہرنامہ دوم ” پر تبصرے میں "تحفۃالعاشقین” کے عنوان سے اپنےمضمون میں یوں رقم طراز ہیں

"ایسی کتابیں تاریخ نویسی کے ضمن میں کلیدی حوالہ اور اساسی متاع کا درجہ اختیار کر لیتی ہیں۔ اس کتاب کے مندرجات سے یہ پہلو نمایاں ہوتا ہے کہ محض دولت و حشمت اور مال و منال کی ریل پیل، امورِ تجارت کی فراوانی، سیمنٹ، ریت اور بجری کے آمیزے سے بنی ہوئی دلکش اور سر بفلک عمارتیں ہی شہروں اور قصبوں کی شناخت نہیں ہوتیں بلکہ مذہبی قدروں، مسلمہ اخلاقی قرینوں، علمی وقار، تعلیمی تمکنت اور شعر و ادب کی وجاہت نسبتاً دیر پا شناخت کی حامل ہوتی ہے۔”
"شہرنامہ دوم” پر ڈاکٹر وصی بیگ بلال اتر پر دیش انڈیا
ڈاکٹر شبیر احمد قادری فیصل آباد کے علاوہ بھی
جن اہل قلم نے اپنے قیمتی خیالات کا اظہار اور تبصرہ کیا ھے ان تمام کا تعلق بھی صرف حیدرآباد اور کراچی سے نہیں بلکہ پاکستان کے دیگر دور دراز شہروں قصبوں سمیت بیرون ملک کے بیشتر نامور ادیب اس میں شامل ہیں جن میں
معروف افسانہ و ناول نگار سلمیٰ صنم کرناٹک بھارت ، معروف شاعرہ ادیبہ مبصرہ عشرت معین سیما جرمنی، جناب ناصر نظامی ہالینڈ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ امین جالندھری صاحب کا مرتب کردہ ” شہر نامہ مجلہ 2025″ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں پچاس سے زاٸد وہ معتبر علمی و ادبی شخصیات شامل ہیں جنھوں نے نثر اور اپنے منظوم کلام کے ذریعے امین جالندھری کی شخصیت، ان کےکام اور محنت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوۓ انکی ادبی روداد "شہر نامہ” کو ایک گراں قدر ادبی اور تاریخی دستاویز قرار دیا ہے۔

ذاتی طور پر جہاں مجھے یہ کتاب ایک مفید علمی، ادبی اور تاریخی دستاویز محسوس ہوئی جس نے مجھے گزشتہ تیس برسوں کی ادبی محافل، کالم نگاری کے بدلتے رنگوں اور بالخصوص امین جالندھری صاحب کے منفرد طرزِ تحریر و اسلوب سے روشناس کرایا وہیں ایک تشنہ پہلو کا ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ کتاب کی ترتیب میں برتی گئی ایک ایسی عجلت جو نفسِ مضمون کو تو متاثر نہیں کرتی البتہ اس کی ظاہری ترتیب اور جمالیاتی حسن میں کہیں کہیں رکاوٹ بنتی ہے میری مراد صفحہ نمبر چار پر”فہرستِ” میں صفحات کی نشاندہی یا صفحات کے نمبر سے ہے جسے مزید ایک صفحے کے اضافے کے ساتھ ترتیب دیا جاتا تو قاری کے لیے مطالعے میں مزید آسانی پیدا ہو سکتی تھی۔
تاہم ان جزوی تکنیکی پہلوؤں سے قطع نظر یہ کتاب اپنی معنویت کے اعتبار سے ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔
میں ایک بار پھر امین جالندھری صاحب کا بیحد متشکر ہوں کہ انہوں نے اپنی محبت کے اظہار کے طور پر "شہر نامہ دوم” کے ذریعے مجھے حیدرآباد کی گزشتہ تیس سالہ ادبی تاریخ کے انمول مشاہدات میں شریک کیا۔ امید ہے کہ ان کا یہ علمی سفر اسی تواتر کے ساتھ جاری رہے گا۔

غنی الر حمٰن انجم
کلفٹن کراچی

post bar salamurdu

غنی الرحمٰن انجم

غنی الر حمٰن انجم فروری 1968 کو گاٶں فورملی تحصیل حضرو ضلع اٹک میں پیدا ہوئے ۔ آپ اردو اور پشتو اخبارات و رساٸل سے قلمی رابطے میں ہیں تاہم ملازمت کی مصروفیات کے باعث ابھی کوٸی کتاب نہیں آئی ۔ شاعری کے ساتھ نثر میں ادبی مضامین کتابی صورت میں لانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ اسکے علاوہ اپنے قوم قبیلے کی مختصر تاریخ اور شجرے کے حوالے سے بھی ایک کتاب مرتب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button