آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریلطیف ساجد

یقیناً کچھ بڑے عشاق کے

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

یقیناً کچھ بڑے عشاق کے رتبے گھٹے ہوں گے
ہماری دھول سے جب دشت کے ٹیلے اٹے ہوں گے

ابھی دریاؤں سے اپنی زمینیں مت طلب کرنا
ابھی سیلاب کے ریلے کہاں پیچھے ہٹے ہوں گے

غریبوں کے مکانوں میں کوئی خامی تو رہتی ہے
در و دیوار پختہ ہوں بھی تو پردے پھٹے ہوں گے

انہیں سالار کی بڑھتی ہوئی دولتِ سے کیا لینا
سپاہی تو سپاہی ہیں محاذوں پر ڈٹے ہوں گے

بڑا سلجھا ہوا پانی ہے کوئی چھت نہیں ٹپکی
کسی کی آنکھ میں ٹھہرے ہوئے بادل چھٹے ہوں گے

کسے آداب آتے ہیں جھجک کر بات کرنے کے
ہمارے بعد شہزادی کے دن مشکل کٹے ہوں گے

اسے تحفے میں بھیجوں گا پرانی ڈائری ساجد
کئی الفاظ گم ہوں گے کئی صفحے پھٹے ہوں گے

لطیف ساجد

post bar salamurdu

لطیف ساجد

لطیف ساجد پانچ اگست انیس سو اسی کو ونیکے تارڑ حافظ آباد میں پیدا ہوئے، دو ہزار ایک میں بطورِ سولجر آرمی میں بھرتی ہوئے دو ہزار تین میں کمانڈو کورس کے بعد ایس ایس جی چلے گئے تین سال صدر پرویز مشرف کی پرسنل سیکورٹی میں ڈیوٹی کے یو این مشن افریقہ چلے گئے ریٹائرمنٹ کے بعد حافظ آباد ذاتی کاروبار کر رہے ہیں،بچپن سے شعر کہہ رہے ہیں دو ہزار اکیس میں پہلا شعری مجموعہ دعا زاد کے نام شائع ہوا جس شمار دور حاضر کے اہم شعری مجموعوں میں ہوتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button