آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریلطیف ساجد

دل کی دیوار سے ٹکراٸے ہوئے لگتے ہیں

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

دل کی دیوار سے ٹکراٸے ہوئے لگتے ہیں
ایسے الفاظ جو دہراٸے ہوئے لگتے ہیں

کوئی ترتیب نہیں لادے ہوئے اونٹوں کی
قافلے شکل سے گھبرائے ہوئے لگتے ہیں

جیسے بیٹھا ہو کوئی حالت مجبوری میں
آپ تصویر میں اُکتائے ہوئے لگتے ہیں

خود کو دیکھوں تو کوئی اور نظر آتا ہے
آجکل آئینے چکرائے ہوئے لگتے ہیں

مُغلیہ دور کی وحشت ہے مرے کمرے میں
جسم دیوار میں چُنوائے ہوئے لگتے ہیں

کوئی تفصیل نہ تعداد کا اندازہ ہے
غم بھی تعطیل میں اِجرائے ہوئے لگتے ہیں

کتنے مانوس ہیں اس گاؤں کے بوڑھے برگد
لوگ اُٹھ جائیں تو مرجھائے ہوئے لگتے ہیں

اب مجھے درد ضرورت سے بھی کم ہوتا ہے
اب مرے زخم مسیحائے ہوئے لگتے ہیں

اپنے احساس کی تشریح کریں تو ‘ساجد
ہم کسی شعر میں دفنائے ہوئے لگتے ہیں

لطیف ساجد

post bar salamurdu

لطیف ساجد

لطیف ساجد پانچ اگست انیس سو اسی کو ونیکے تارڑ حافظ آباد میں پیدا ہوئے، دو ہزار ایک میں بطورِ سولجر آرمی میں بھرتی ہوئے دو ہزار تین میں کمانڈو کورس کے بعد ایس ایس جی چلے گئے تین سال صدر پرویز مشرف کی پرسنل سیکورٹی میں ڈیوٹی کے یو این مشن افریقہ چلے گئے ریٹائرمنٹ کے بعد حافظ آباد ذاتی کاروبار کر رہے ہیں،بچپن سے شعر کہہ رہے ہیں دو ہزار اکیس میں پہلا شعری مجموعہ دعا زاد کے نام شائع ہوا جس شمار دور حاضر کے اہم شعری مجموعوں میں ہوتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button