خبر ہوئی نہ اپنی، مگر خبر غیر کی ہم دیکھتے رہے
وادیِ کشمیر و فلسطین جلتا رہا مگر ہم دیکھتے رہے
زمیں و فضاء سے گھیر کر، بناتا رہا نشانہ دشمن ہمیں
بٹ کر سرحدوں میں، تماشا خود کا ہم دیکھتے رہے
ملک سرحدوں و عوام فرقوں میں منتشر رکھیں
ہے یہی مغرب نوازی، ہم انتشار خود کا دیکھتے رہے
بربریت چھائی ہند میں، خاموشی ایوانِ مسلم میں
ایک ہوئے دشمن ہمارے، تماشہ مسلماں دیکھتے رہے
مرتے رہیں گے ہم یوں ہی مگر آہ نہ کریں گے حجازی
باغی کہتے ہیں ہمیں، وہ جو خود ساتھ حریفوں کے رہے
محمد حجازی








