آپ کا سلاماختصاریئےاردو تحاریرمحمد حسین بہشتی

ایک اہم بات جو کہنے جا رہا ہوں

فکر و نظر: محمد حسین بہشتی

جو سچ کہوں تو برا لگے جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں
یہ سماج جہل کی زد میں ہے یہاں بات کرنا حرام ہے

ہمارے معاشرے میں یہ بات طے شدہ سمجھی جاتی ہے کہ جو شخص امن اور سادگی کے ساتھ زندگی گزار دے، اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس جو لوگ ہر قسم کی چاپلوسی، مکاری اور منافقت کے ملے جلے کردار ادا کرتے ہیں، وہ معاشرے کے ساتھ فِٹ نظر آتے ہیں۔ پھر وہی لوگ معاشرے اور سماج میں ایک سرگرم فرد کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔
یہی منظر ہر جگہ دیکھنے کو ملتا ہے:
مندروں میں ، کلیسائوں میں ، مسجدوں میں، امام بارگاہوں میں، مدرسوں اور اداروں میں، سیاسی و مذہبی جماعتوں میں—غرض ہر شعبۂ زندگی میں۔
جب یہ طرزِ عمل طویل عرصے تک جاری رہتا ہے تو بالآخر تباہی و بربادی مقدر بن جاتی ہے، اور پھر ہر چیز بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے۔ تاریخِ بشریت دراصل اسی کشمکش کے مرحلہ وار اور تدریجی عمل کا نام ہے۔
پھر فطرتِ الٰہی انگڑائی لے کر ایک نسل کو نابود کرتی ہے اور کسی دوسری نسل کو پروان چڑھنے کا موقع دیتی ہے۔ یہی عمل امامِ زمانہؑ کے ظہورِ انور تک جاری و ساری رہے گا۔
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے ابلہ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں ، بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

محمد حسین بہشتی

post bar salamurdu

محمد حسین بہشتی

نام : محمد حسین بہشتی پیدائش : 1969م سندوس سکردو ابتدائی تعلیم : سندوس سکردو اعلی تعلیم : گر یجو یشن کراچی یونیورسٹی شغل : تحقیق (ریسرچ سیکا لر )( اب تک 200 سو مقالہ اور 25 کتابیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button