آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحمد حسین بہشتی

قوموں کی حیات اور اقبال کا پیغام

ایک اردو تحریر از محمد حسین بہشتی

آج ہم جس دور میں کھڑے ہیں، وہ صرف سیاسی بحران کا دور نہیں، یہ فکری زوال کا دور ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں قومیں اس بات سے پہچانی جاتی ہیں کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچتی ہیں، نہ کہ یہ کہ ان کے پاس کیا ہے۔
اسی حقیقت کو علامہ اقبال نے ایک مصرع میں سمیٹ دیا:
قوموں کی حیات ان کے تخیل پہ ہے موقوف
یہ ذوق سکھاتا ہے ادب مرغِ چمن کو
اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ قومیں اسلحے، معیشت یا طاقت سے زندہ نہیں رہتیں—قومیں خیال سے زندہ رہتی ہیں۔ جس قوم کا تخیل مردہ ہو جائے، وہ چلتی پھرتی لاش بن جاتی ہے۔ اور جس قوم کا تخیل بلند ہو، اس کے افراد میں خود بخود وقار، ضبط اور تہذیب پیدا ہو جاتی ہے۔
آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مرغِ چمن تو موجود ہے، مگر پرواز کا ذوق ختم ہو چکا ہے۔ نوجوان ہے، مگر مقصد نہیں؛ زبان ہے، مگر ادب نہیں؛ طاقت ہے، مگر ذمہ داری نہیں۔
یہ سب اس لیے کہ ہماری اجتماعی خودی کمزور ہو چکی ہے۔
لیکن اقبال صرف تشخیص نہیں کرتے، وہ علاج بھی بتاتے ہیں۔ وہ ہمیں خبردار کرتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنی فکری بنیاد مغرب کی اندھی تقلید پر رکھی، تو انجام کیا ہوگا:
مجذوبِ فرنگی نے بہ اندازِ فرنگی
مہدی کے تخیل نے کیا زندہ وطن کو
یہاں اقبال دو کردار ہمارے سامنے رکھتے ہیں۔
ایک وہ شخص ہے جو مغرب کے سحر میں گرفتار ہو کر، ہر مسئلے کا حل مغربی فکر میں ڈھونڈتا ہے۔ اس کی سیاست بھی درآمد شدہ، اس کی معیشت بھی قرض پر، اور اس کی تہذیب بھی مرعوب۔ یہ وہ ذہن ہے جو اپنے ماضی سے شرمندہ اور اپنے مستقبل سے خوف زدہ ہے۔
اور دوسرا کردار وہ ہے جو مہدی کے تخیل سے جڑا ہوا ہے۔
یہاں ایک بات واضح ہونی چاہیے:
اقبال کے نزدیک مہدی کا تصور محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں، بلکہ عدلِ کامل پر یقین، ظلم کے خاتمے کی امید، اور تاریخ کے رخ کے بدلنے کا شعور ہے۔
یہ تخیل انسان کو سست نہیں بناتا، بلکہ اسے ظلم کے سامنے کھڑا ہونا سکھاتا ہے۔
آج کے سیاسی حالات میں ہم دیکھتے ہیں:
نظام چل رہے ہیں، مگر عدل نہیں
ریاستیں موجود ہیں، مگر خودمختاری نہیں
انتخابات ہوتے ہیں، مگر اعتماد نہیں
کیوں؟
کیونکہ سیاست سے اخلاق اور فکر سے امید نکال دی گئی ہے۔
اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ:
جس قوم کو یقین ہو کہ باطل عارضی ہے اور حق کو بالآخر غالب آنا ہے،
وہ قوم کبھی مکمل شکست قبول نہیں کرتی۔
مہدی کے تخیل کا آج کا مطلب یہ ہے کہ:
ناانصافی کو تقدیر نہ مانا جائے
طاقت کو حق کا معیار نہ سمجھا جائے
مستقبل کو صرف طاقتور کے ہاتھ میں نہ چھوڑا جائے
یہی تخیل:
سیاست کو خدمت بناتا ہے
اختلاف کو تہذیب سکھاتا ہے
نوجوان کو مایوسی سے نکالتا ہے
اقبال کا پیغام بہت واضح ہے:
اگر ہمیں وطن کو زندہ کرنا ہے تو ہمیں خودی کو جگانا ہوگا،
اور خودی صرف اسی وقت بیدار ہوتی ہے جب قوم کے پاس:
ایک واضح نصب العین
ایک اخلاقی سیاست
اور ایک امید بھرا مستقبل ہو
آخر میں اقبال ہم سے سوال نہیں کرتے، ہمیں للکارتے ہیں:
کیا ہم مجذوبِ فرنگی بن کر جینا چاہتے ہیں؟
یا اس تخیل کے ساتھ جینا چاہتے ہیں جو قوموں کو تاریخ بناتا ہے؟
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔

محمد حسین بہشتی

post bar salamurdu

محمد حسین بہشتی

نام : محمد حسین بہشتی پیدائش : 1969م سندوس سکردو ابتدائی تعلیم : سندوس سکردو اعلی تعلیم : گر یجو یشن کراچی یونیورسٹی شغل : تحقیق (ریسرچ سیکا لر )( اب تک 200 سو مقالہ اور 25 کتابیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button