جناب نصیر احمد کینیڈا (ملٹن) میں مقیم ہیں ۔
افسانہ نگار ہیں۔ حلقہء ارباب ذوق اسلام آباد کے رکن اور سیکرٹری بھی رہے۔
انہوں نے میری ایک معروف غزل کا نہایت عالمانہ تجزیہ کیا ہے۔اس سے پہلے بھی یہ غزل کئی احباب کو پسند آئی ہے لیکن اس وسعت اور گہرائی سے شاید ہی کسی نے دیکھا ہو۔
یہ تحریر عالمی ادب، افسانے ،موسیقی و مصوری، تصوف، اردو ، پنجابی انگریزی اور مشرق و مغرب کے کئی اہم حوالوں سے مزین ہے۔
امید ہے احباب کو پسند آئے گا ۔
اس عنایت پر شکرگزار ہوں جناب نصیر احمد
۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔
غزل
تو بنا کے پھر سے بگاڑ دے ، مجھے چاک سے نہ اُتارنا
رہوں کوزہ گر ترے سامنے ، مجھے چاک سے نہ اُتارنا
تری ”چوبِ چاک “ کی گردشیں مرے آب و گِل میں اُتر گئیں
مرے پاﺅں ڈوری سے کاٹ کے مجھے چاک سے نہ اُتارنا
تری اُنگلیاں مرے جسم میں یونہی لمس بن کے گڑی رہیں
کفِ کوزہ گر مری مان لے، مجھے چاک سے نہ اُتارنا
مجھے رُکتا دیکھ کے کرب میں کہیں وہ بھی رقص نہ چھوڑ دے
کسی گردباد کے سامنے ، مجھے چاک سے نہ اُتارنا
ترا زعمِ فن بھی عزیز ہے، بڑے شوق سے تُو سنوار لے
مرے پیچ و خم، مرے زاویے ، مجھے چاک سے نہ اُتارنا
ترے ’’سنگِ چاک“ پہ نرم ہے مری خاک ِ نم، اِسے چھوتا رہ
کسی ایک شکل میں ڈھال کے، مجھے چاک سے نہ اُتارنا
مجھے گوندھنے میں جو گُم ہوئے، ترے ہاتھ، اِن کا بدل کہاں
کبھی دستِ غیر کے واسطے مجھے چاک سے نہ اتارنا
ترا گیلا ہاتھ جو ہٹ گیا مرے بھیگے بھیگے وجود سے
مجھے ڈھانپ لینا ہے آگ نے، مجھے چاک سے نہ اتارنا
شہزاد نیر
گفتگو جناب نصیر احمد ، کینیڈا
۔
یہ غزل دراصل ایک نہایت پُراثر اور فنّی طور پر گہری تخلیق ہے جس میں کوزہ گر اور چاک کی تمثیل کے ذریعے انسانی وجود، اُس کی تکمیل، اور خالق و مخلوق کے رشتے کو بڑے خوبصورت اور نازک پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔
اس کی خوبصورتی اور جمالیات کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے اور لطف اندوز ہو سکتا ہے جس نے کوزہ گر کو چوب چاک پہ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیکھا ہو بلکہ اس کا قریب سے مشاہدہ کیا ہو۔
گھومتے چاک پر مٹی کے ڈھلنے اور سنورنے کا منظر اپنی جگہ ایک جادوئی کیفیت رکھتا ہے، اور شاعر نے اسی منظر کو عشق، فنا اور سپردگی کی تمثیل بنا دیا ہے۔ ندرت، نزاکت اور اچھوتا پن اس تخلیق کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔
اس نظم نما غزل کے چند نمایاں پہلو درج ذیل ہیں
تمثیلی حسن
کوزہ گر اور چاک کا استعارہ بے حد بلیغ ہے۔ انسان کو مٹی سے تشبیہ دینا اور اس کی تشکیل و تکمیل کو کوزہ گر کے ہاتھوں سے وابستہ کرنا نہ صرف تخلیقی ہے بلکہ قاری کے دل کو چھو لیتا ہے۔
ویسے بھی اسلام میں یہ تصور موجود ہے کہ انسان کو مٹی سے تخلیق کیا گیا۔
تسلسل اور وحدتِ تاثر
پوری غزل ایک ہی استعارے کے گرد گھومتی ہے اور کہیں بھی موضوع بکھرتا نہیں۔ "چاک سے نہ اُتارنا” کی ردیف اور اس کا بار بار دہرایا جانا غزل کو نہ صرف گہری معنویت دیتا ہے بلکہ ایک طرح کی موسیقیت بھی پیدا کرتا ہے۔
جذبات کی شدت
ہر شعر میں ایک التجا، ایک گہری تڑپ اور فنا فی الوجود کی کیفیت جھلکتی ہے۔ شاعر نے اپنی ہستی کو مکمل طور پر کوزہ گر کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ کیفیت پڑھنے والے کے اندر وجدانی کیفیت پیدا کرتی ہے۔
تصویریت (Imagery)
نظم میں استعمال شدہ الفاظ جیسے "چوبِ چاک کی گردشیں”، "مرے پاﺅں ڈوری سے کاٹ کے”، "تری اُنگلیاں مرے جسم میں یونہی لمس بن کے گڑی رہیں”، "مرے پیچ و خم” — سب ایک زندہ تصویر کھینچتے ہیں۔ قاری کے ذہن میں واقعی ایک کوزہ گر اور اُس کے گھومتے چاک پر بنا ہوا مٹی کا برتن اُبھرتا ہے
اور خیال مسرت کی شعاعیں اوڑھے، نشیب زینہء ایام پر قدم رکھتا، گاؤں کی خواب آور زندگی کی طرف پلٹ جاتا ہے۔
لسانی آہنگ
زبان میں ایک روانی اور نغمگی ہے۔
مصرعوں میں وقار اور ٹھہراؤ ہے، جیسے کوزہ گر کے ہاتھ آہستہ آہستہ مٹی کو تراش رہے ہوں۔
۔”تری چوب چاک کی گردشیں مرے آب و گل میں اتر گئیں
مرے پاؤں ڈوری سے کاٹ کے مجھے چاک سے نہ اتارنا”
تصور میں لائیں وہ لمحہ جب مورتی مکمل ہو جاتی ہے تو کوزہ گر کس قدر احتیاط کے ساتھ اسے ڈوری کے ساتھ کاٹ کے نیچے اتارتا ہے۔
تری انگلیاں مرے جسم میں یونہی لمس بن کے گڑی رہیں
اچھوتا خیال ہے
” ترے سنگ چاک پہ نرم ہے، مری خاک نم اسے چھوتا رہ
کسی ایک شکل میں ڈھال کے مجھے چاک سے نہ اتارنا”
خاک نم” نے شعر کو چار چاند لگا دیے ہیں۔”
کسی ایک شکل میں ڈھلنا خود کو محدود کر دینے کے مترادف ہے۔اور یہ دلکش خیال اس شعر کی روح ہے۔
ترا گیلا ہاتھ جو ہٹ گیا، مرے بھیگے بھیگے وجود سے”
"مجھے ڈھانپ لینا ہے اگ نے، مجھے چاک سے نہ اتارنا
شاعر اس مورتی کی شکل میں بھٹی میں جلتے ہوئے خود کو محسوس کرتا ہے اور ملتجی ہے کوزہ گر سے کہ اپنے دھیان کو میرے وجود سے نہ ہٹانا ورنہ مجھے ہجر، فراق اور جدائی کی بھٹی میں ساری زندگی جلنا پڑے گا۔
فراق کی بھٹی میں جلنے کا احساس روح کی پاتال میں اتر جاتا ہے، جسم میں سنسنی دوڑ جاتی ہے ۔
اس تخلیق کا ہر شعر دیدہ زیب لفظوں کی ایک مالا ہے ۔ جسے بڑے سلیقے سے آراستہ کیا گیا ہے۔
غزل کے ہر مصرع میں معنی کی نئی جہتیں کھلتی ہیں۔ کہیں قاری فنا کا جذبہ دیکھتا ہے، کہیں سپردگی کی شدت، کہیں وصال کی آس، کہیں ہجر کی بھٹی۔
پانچ سال قبل میرا جب شیو کمار بٹالوی کی پنجابی نظموں سے پہلا تعارف ہوا تو مجھ پر حیرتوں کا ایک جہان وا ہوا۔ اج تک اس کی نظموں کے سحر سے نہیں نکل سکا۔ اسی طرح نہ جانے کب تک یہ تخلیق مجھے اپنے سحر میں گرفتار کیے رکھے گی۔
اگر اسے آزاد نظم کے آہنگ میں لکھا گیا ہوتا تو یہ کیسا تجربہ رہتا ؟
رفیق سندھیلوی ( میرے انتہائی پیارے دوست) کی ایک نظم جس میں جب وہ ایک بڑھئی کو آرے کی مشین پر لکڑی کاٹتے دیکھتا ہے تو وہ اس لکڑی کی جگہ خود کو آرے سے کٹتا ہوا محسوس کرتا ہے۔
خود کو اپنے سے الگ کر کے کسی دوسری صورت میں دیکھنا اور پھر اسے بہترین تخلیق کا روپ دینا
کمال فن ہے اور یہی جادو شہزاد نیر کی اس تخلیق میں پنہاں ہے۔
افسانہ نگار منشا یاد ، جن کے ساتھ دوستی کا ایک لازوال بندھن تھا، ان کا مشہور افسانہ "درخت آدمی” جس میں ایک بوڑھا شخص، جس کے گھر کے آنگن میں اگا درخت، بچپن سے بڑھاپے تک اس کا رفیق رہا، جو اب سوکھ چکا ہے اور سایہ دینے سے قاصر ہے۔ جب اس درخت کو فضول اور بیکار سمجھ کر کاٹا جاتا ہے تو آری اس بوڑھے شخص کے جسم کے آر پار گزر جاتی ہے اور درخت کے ساتھ وہ بوڑھا شخص بھی ڈھیر ہو جاتا ہے۔
یہ اس تخلیق کا سحر ہے کہ ذہن کی الماری میں پڑی کتنی کہانیاں مجھ سے محو گفتگو ہیں۔
کئی بھولی بسری یادیں بوند بوند دل پر اترتی ہیں اور من بھیگ بھیگ جاتا ہے۔
جب میں وارث شاہ، بلھے شاہ اور شو کمار بٹالوی اور پنجابی کےدیگر قد آور شعراء کو پڑھتا ہوں تو پنجاب کی زندگی، کلچر اور روایات کی کئی تصاویر میرے سامنے ابھرتی اور ڈوبتی ہیں ۔ مگر اردو شاعری اور خاص طور پر اردو غزل میں
اہل زبان کی تہذیب و ثقافت کے بارے میں بہت ہی کم دیکھنے کو ملتا ہے لیکن اس تخلیق نے میری اس رائے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ یہ غزل اپنے اندر تمثیلی حسن اور تہذیبی پس منظر دونوں سموئے ہوئے ہے
رومینٹک انگلش شاعر کالرج جب نظم
"قبلائے خان” لکھ رہا تھا تو تخلیقی عمل کے دوران کوئی مہمان آ گیا اور اس کی تخلیق وہیں ادھوری رہ گئی،جو کبھی مکمل نہ ہو سکی۔
بعد میں لکھی گئی آخری چند لائنوں میں وہ انتہائی کرب اور دکھ کے ساتھ کہتا ہے کہ اگر میں یہ تخلیق مکمل کر پاتا تو فضا میں ایک محل تعمیر کر دیتا۔
مگر یہ شہ پارہ حقیقت میں فضا میں ایک محل تعمیر کرنے کے مترادف ہے۔
انگلستان کے مشہور موسیقی بینڈ
"Arctic Monkeys”
کا ایک مقبولِ عام گیت ہے
"R U Mine ?”
جس کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے
"I’m a puppet on a string”
یعنی "میں ایک ڈور سے بندھی پتلی کی مانند ہوں۔”
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس غزل اور مذکورہ
گیت میں ایک حیرت انگیز باطنی مماثلت پائی جاتی ہے۔ گیت میں شاعر خود کو ایک ایسی پتلی محسوس کرتا ہے جس کی ڈور کسی پوشیدہ ہستی، یعنی محبوب، کے ہاتھ میں ہے۔ وہ اپنے وجود، اپنی حرکات اور اپنے احساسات پر اختیار چھوڑ کر محبوب کے اشاروں پر چلنے پر مجبور ہے۔
اسی طرح، اس غزل میں شاعر خود کو مٹی کی ایک مورتی سے تشبیہ دیتا ہے — ایک ایسی تخلیق جو اپنے خالق، کوزہ گر کے سامنے سراپا سپردگی کی تصویر بن جاتی ہے۔ دونوں تخلیقات میں محبوب کے سامنے خود کو مکمل طور پر حوالے کر دینے، انا کو مٹا دینے اور بے غرض محبت کی سرشاری نمایاں ہے۔۔
پھول کی خوشبو، بچے کی مسکراہٹ، ستاروں کا رقص اور اچھی موسیقی ، ان سب سے صرف ہم لطف اندوز ہوتے ہیں، معنی تلاش نہیں کرتے۔
یوں ہی اس تخلیق سے ہم لطف اٹھاتے ہیں۔ اسے بار بار پڑھنے کو دل چاہتا ہے۔
۔ اس تخلیق کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ قاری کے ذہن، سوچ اور تصور کی جس قدر پرواز ہوگی
وہ اسی قدر اس سے آنندہو ہوگا۔
اس طرح کی منفرد اور وجدانی تخلیق کم کم پڑھنے کو ملتی ہے۔
غزل : شہزاد نیر ، لاہور
تجزیہ: نصیر احمد ، کینیڈا








