آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریضمیر قیس

آنکھ تھوڑی سی مقدر کی

ضمیر قیس کی ایک اردو غزل

آنکھ تھوڑی سی مقدر کی دھنی ہوتی ہے
روشنی ورنہ کہاں اتنی غنی ہوتی ہے
دل نکھرتا ہے اذیت کی خراشیں سہہ کر
پاک ہے دھوپ جو پت٘وں سے چھنی ہوتی ہے
دیکھ لیتے ہیں مری روح کا افلاس سبھی
جسم پر شکر کی چادر بھی تنی ہوتی ہے
تجربے ، طنز کے آداب سکھا دیتے ہیں
بات کرنا بھی کبھی کم سخنی ہوتی ہے
اب تو یوں ہے کہ فراموش کیے جانے کے غم
ہم بتائیں بھی تو پیماں شکنی ہوتی ہے
عزم چھِل جاتے ہیں روزی کی طنابیں کھیتے
اتنی آساں یہ کہاں کوہ کنی ہوتی ہے
خود پہ غص٘ہ تو اترتا بھی نہیں ہے میرا
آتے جاتے ہوئے لوگوں سے ٹھنی ہوتی ہے
ہم جو پتھر کو بھی تکلیف نہیں دے سکتے
خاک خوش ہوں گے جب آئینہ زنی ہوتی ہے
آپ تو وجد سمجھتے ہیں ، فقیروں کی دھمال
اور جو اپنی یہاں جاں پہ بنی ہوتی ہے ۔۔ !
گھر کو جلتے ہوئے دیکھوں گا سہولت سے ضمیر
اس دھویں کی بھی بہت چھاؤں گھنی ہوتی ہے

ضمیر قیس

post bar salamurdu

ضمیر قیس

ضمیرقیس ملتان سے تعلق رکھنے والا شاعر ہے غزلوں کے دو مجموعے شائع ہوچکے ہیں اس کے پہلے مجموعے سے ہی اس کی غزل اٹھان نے ثابت کردیا تھا کہ ملتان سے غزل کا ایک اہم شاعر منظر عام پر آرہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button