- Advertisement -

ہیں کہ دل میں کوئی آرزو نہیں مرے دوست

صدیق صائب کی ایک اردو غزل

ہیں کہ دل میں کوئی آرزو نہیں مرے دوست
مگر یہ سچ کہ تری جستجو نہیں مرے دوست

ہے زخم زخم ہی کار ِ جنون کا حاصل
جہان ِعشق میں رسم ِ رفو نہیں مرے دوست

بغیر رخت کڑے دشت کا مسافر ہوں
کہ اس سفر میں کوئی آب جو نہیں مرے دوست

مری نماز کسی سہو کے سپرد ہوئی
کہ اقتداء میں کوئی باوضو نہیں مرے دوست

مری زبان پہ جاری ہے تیرا ذکر ِ خیر
یہ اور بات ترے روبرو نہیں مرے دوست

میں اس خیال کا پھر کب خیال رکھتا ہوں
وہ جس خیال میں شامل ہی تو نہیں مرے دوست

بہار میں بھی سکوت ِ خزاں سلامت ہے
سرِ چمن جو کوئی ہاؤ ہو نہیں مرے دوست

صدیق صائب

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک افسانہ از سعادت حسن منٹو