اردو غزلیاتساغر صدیقیشعر و شاعری

رہبروں کے ضمیر مجرم ہیں

ایک اردو غزل از ساغر صدیقی

رہبروں کے ضمیر مجرم ہیں

ہر مسافر یہاں لٹیرا ہے

معبدوں کے چراغ گُل کر دو

قلب انسان میں اندھیرا ہے

جامِ عشرت کا ایک گھونٹ نہیں

تلخی آرزو کی مینا ہے

زندگی حادثوں کی دنیا میں

راہ بھولی ہوئی حسینہ ہے

نور و ظلمت کا احتساب نہ کر

وقت کا کارو بار سانجھا ہے

اس طلسمات کے جہاں میں حضور

کوئی کیدو ہے کوئی رانجھا ہے

ساغر صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button