- Advertisement -

انگلیوں سے لپٹ نہیں پاتی

ایوب خاور کی اردو غزل

انگلیوں سے لپٹ نہیں پاتی
بان کی طرح بٹ نہیں پاتی

زندگی خواہشوں کی مایا ہے
جو کسی طور گھٹ نہیں پاتی

سچ تو یہ ہے کہ میری چشم طلب
ترے چہرے سے ہٹ نہیں پاتی

چاند ہو، تُو نہ ہو تو جانِ جہاں
چاندنی بھی تو چھٹ نہیں پاتی

لاکھ دامن سمیٹ کر رکھیے
پر جوانی سمٹ نہیں پاتی

یہ محبت عجب مصیبت ہے
کچھ بھی کیجے نمٹ نہیں پاتی

تجھ طرف جائے جو نظر اِک بار
وہ نظر پھر پلٹ نہیں پاتی

ایوب خاور 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایوب خاور کی اردو غزل