شعر و شاعریمزاحیہ شاعرینیاز سواتی

کھٹملوں کا نام مچھر

نیاز سواتی کی مزاحیہ اردو شاعری

کھٹملوں کا نام مچھر کا نشاں کوئی نہ ہو
معرکے رشوت کے ہم ہر روز سر کرتے رہے

خدمت علم و ہنر ہم عمر بھر کرتے رہے
اور سب اعزاز حاصل بے ہنر کرتے رہے

دوپہر تک وہ ادھر آرام سے سوتا رہا
انتظار یار شب بھر ہم ادھر کرتے رہے

درد تو محسوس کرتا تھا میں اپنے پاؤں میں
ڈاکٹر لیکن علاج درد سر کرتے رہے

ہم نے سوچا تھا بنیں گے پائلٹ ہم کبھی مگر
زندگی بھر بیل گاڑی میں سفر کرتے رہے

نیاز سواتی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button