- Advertisement -

کوئی گلا نہ شکایت ہے کیا کیا جائے

ایوب خاور کی اردو غزل

کوئی گلا نہ شکایت ہے کیا کیا جائے
یہ اہلِ دل کی روایت ہے کیا کیا جائے

گھڑی میں پھول، گھڑی بھر میں دھُول کر دے گا
عجیب اُس کی طبیعت ہے کیا کیا جائے

کسے خبر تھی کہ یہ عشق و آگہی کا فروغ
بس ایک کارِ ندامت ہے کیا کیا جائے

بیاں کسی سے بھی دُکھ اپنے کر نہیں سکتے
یہ دُکھ بھی اُس کی عنایت ہے کیا کیا جائے

پنپنے دیتا نہیں دل میں بد گمانی کو
یہی تو اُس کی مہارت ہے کیا کیا جائے

دلوں کے کھیل کا کیا پوچھتے ہو جانِ جاں
کئی طرح کی مصیبت ہے کیا کیا جائے

جو دِل میں درد کے پودے لگائے جاتا ہے
وہی تو ربِ محبت ہے کیا کیا جائے

کسی کو اپنے تئیں وہ خفا نہیں رکھتا
یہ اُس کا حسنِ سیاست ہے کیا کیا جائے

ہزار رنج سرِ ہجر کارِ فرما ہیں
مگر یہ دِل کہ سلامت ہے کیا کیا جائے

ایوب خاور 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایوب خاور کی اردو غزل