آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتشبیرنازش

ماہِ نو کا پیام ہو جیسے

ایک اردو غزل از شبیرنازش

ماہِ نو کا پیام ہو جیسے
حسن وہ بے نیام ہو کیسے

چپ بھی ہو تو وہ بولتی ہی لگے
وہ سراپا کلام ہو جیسے

وہ جدھر جائے ساتھ ساتھ چلے
آنکھ اس کی غلام ہو جیسے

چاندنی سی ہے چاندنی ہر سو
چھت پہ ماہِ تمام ہو جیسے

آبِ سادہ کِیا تھا پیش اس نے
جھوم اٹھا دل کہ جام ہو جیسے

نام سنتے ہی چونک جاتا ہوں
عشق میرا ہی نام ہو جیسے

آپ سے بات کر کے ایسا لگا
وہ گلی ہم کلام ہو جیسے

کر رہا ہے وہ سب حساب کتاب
عشق بھی کوئی کام ہو جیسے

اس کو دیکھا تو یوں لگا نازش
گل رخوں کا امام ہو جیسے

شبیر نازش

شبیر نازش

ادبی نام: شبیر نازش خاندانی نام: شبیر حسین 17 اکتوبر 1980 کو سندھ کے شہر ڈگری کے نواح ”کچھیوں والی گوٹھ” میں آنکھ کھولی۔ بچپن میں ہی سندھ سے ہجرت کر کے پنجاب چلے گئے اور میاں چنوں کے قریب چک نمبر 132/16/L میں مقیم ہوئے۔ میاں چنوں ہی سے گریجویشن کیا اور شاعری کا آغاز 1992 میں ہوا تب عمر 12 برس تھی اور وہ چھٹی جماعت میں تھے۔ 1996 میں استادِ محترم مرزا نصیر خالد (مرحوم) کی شاگردی اختیار کی۔ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شاعری کرتے ہیں۔ 2004 میں ایک بار پھر رختِ سفر باندھا اور کراچی آ گئے، اب یہیں مقیم ہیں۔ 2017 میں پہلا شعری مجموعہ ”آنکھ میں ٹھہرے ہوئے لوگ” شائع ہوا۔دوسرا شعری مجموعہ ”ہم تری آنکھ سے ہجرت نہیں کرنے والے” 2022 میں شائع ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button