سید سلمان گیلانی: لفظوں کا مسافر، عقیدت کا سفیر
کچھ لوگ اپنے نام سے نہیں بلکہ اپنے لہجے سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی آواز میں ایک ایسی سچائی ہوتی ہے جو دلوں کے بند دریچوں کو آہستہ آہستہ کھول دیتی ہے۔ سید سلمان گیلانی بھی انہی لوگوں میں سے تھے۔ وہ جب نعت پڑھتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے الفاظ محض ادا نہیں ہو رہے بلکہ دل کی گہرائیوں سے اٹھ کر فضا میں پھیل رہے ہیں۔ ان کی رحلت نے یہ احساس اور بھی گہرا کر دیا ہے کہ ہمارے درمیان سے ایک ایسی آواز رخصت ہو گئی جو عقیدت، شعور اور محبت کا استعارہ تھی۔
ان کی زندگی کا سب سے روشن پہلو عشق رسول ﷺ تھا۔ انہوں نے نعت کو محض ترنم کا مظاہرہ نہیں بنایا بلکہ اسے فکر اور احساس کی امانت سمجھ کر پیش کیا۔ ان کے اشعار میں سادگی تھی مگر اس سادگی کے پیچھے ایک پختہ شعور اور مضبوط عقیدہ موجود تھا۔ وہ جانتے تھے کہ نعت گوئی ذمہ داری کا نام ہے۔ اس لیے ان کے لفظوں میں ادب بھی تھا اور احتیاط بھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی محافل میں شور نہیں، سکون ہوتا تھا۔ سامعین خاموش بیٹھے رہتے اور دلوں میں ایک نور سا اترتا چلا جاتا۔
سلمان گیلانی کی شخصیت کا ایک اور پہلو ان کی مزاحیہ اور طنزیہ شاعری تھی۔ وہ معاشرتی خرابیوں کو نشانہ بناتے تو انداز تلخ نہیں ہوتا تھا بلکہ ایسا ہوتا کہ قاری مسکرا بھی دے
اور سوچنے پر مجبور بھی ہو جائے۔ یہ ایک بڑا ہنر ہے کہ آپ اصلاح بھی کریں اور دل آزاری بھی نہ ہو۔ انہوں نے اس ہنر کو بخوبی برتا۔ ان کا کلام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ اپنے عہد کے مسائل سے بے خبر نہیں تھے۔ وہ معاشرے کی نبض پہچانتے تھے اور اسی نبض پر ہاتھ رکھ کر بات کرتے تھے۔
ان کی محافل محض ادبی تقریبات نہیں ہوتیں تھیں بلکہ روحانی اجتماع کا منظر پیش کرتی تھیں۔ لوگ دور دراز سے آتے، بیٹھتے اور ان کی آواز میں ڈھلتے ہوئے لفظوں کو اپنے دل میں محفوظ کر لیتے۔ ان کے پڑھنے کا انداز نہایت سادہ تھا۔ نہ بناوٹ، نہ تصنع، نہ آواز کا غیر ضروری اتار چڑھاؤ۔ بس ایک سیدھی، صاف اور سچی پیشکش۔ شاید یہی سچائی ان کی اصل طاقت تھی۔
ان کی رحلت کے بعد جو مناظر سامنے آئے وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے دلوں میں جگہ بنائی تھی۔ جب کوئی شخص دنیا سے جاتا ہے تو اس کے بارے میں لوگوں کے تاثرات اس کی اصل پہچان بن جاتے ہیں۔ سلمان گیلانی کے لیے ہر آنکھ اشکبار تھی، ہر زبان پر دعا تھی اور ہر دل میں ایک خلا کا احساس۔ یہ خلا اس لیے ہے کہ انہوں نے محض وقت نہیں گزارا بلکہ اپنے وقت کو معنی دیا۔
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں آوازیں بہت ہیں مگر اثر کم ہے۔ ہر طرف اظہار ہے مگر اخلاص کم دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں سلمان گیلانی جیسے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل طاقت اخلاص میں ہے۔ اگر لفظ دل سے نکلیں تو وہ دل تک پہنچتے ہیں۔ اگر نیت صاف ہو تو آواز میں تاثیر خود بخود آ جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی سے یہ سبق دیا کہ شہرت کا پیچھا کرنے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ انسان اپنے فن کے ساتھ مخلص رہے۔
ان کی زندگی کا سفر ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ادب اور دین ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ جب ادب میں اخلاق شامل ہو جائے تو وہ محض تفریح نہیں رہتا بلکہ تربیت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ سلمان گیلانی نے اپنے کلام کے ذریعے یہی کام کیا۔ انہوں نے محبت کو عام کیا، عقیدت کو مضبوط کیا اور اختلاف کے ماحول میں احترام کا سبق دیا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کے ورثے کو سنبھالیں۔ نئی نسل کو یہ بتایا جائے کہ نعت محض ایک صنف سخن نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ شاعری محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ کردار کا آئینہ ہے۔ اگر ہم نے ان کے اس پیغام کو سمجھ لیا تو یہی ان کے لیے سب سے بڑا خراج عقیدت ہوگا۔
سلمان گیلانی اب ہمارے درمیان نہیں مگر ان کے لفظ زندہ ہیں۔ ان کی آواز شاید خاموش ہو گئی ہو مگر اس کی بازگشت ابھی تک دلوں میں سنائی دیتی ہے۔ یہی کسی بھی فنکار کی اصل کامیابی ہے کہ وہ اپنے بعد بھی زندہ رہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ہمیں ان کے اخلاص، سادگی اور محبت کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق دے۔ آمین۔
یوسف صدیقی








