آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعرینگار فاطمہ انصاری

حریف

نگار فاطمہ کی ایک نظم

اے حریفِ جاں !
تمہیں یہ بات کہی نمناک نہ کر دے!
یہ انجان دوست بےباک نہ کر دے!
یہ غم جدائی کے قصے
وصل بہار کے فسانے
تیری حسین جبینوں میں اتر کر چاند کی مانند کوئی داغ نہ کر دے!
اور جب جب شب غم کے فسانے
مجھ سے وحشت کا پتا مانگے تب تب میں ہجر کی سفر نامے لکھ کر
اس دریا میں بہا آیا
جو تیرے گھر کی پاس سے گزرتا ہے
جس میں ہر شب تیرا عکس اترتا ہے !

نگار فاطمہ انصاری

post bar salamurdu

نگار فاطمہ انصاری

نگار فاطمہ انصاری قلمی نام ہے ۔ تعلق یوپی کے مرادآباد ضلع سے ہے - اور 2024 میں شاعری کی دنیا میں قدم رکھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button