آپ کا سلاماردو غزلیاتزین علی آصفشعر و شاعری

دربارِ شاہ میں یوں نہ سر کو

زین علی آصف کی ایک اردو غزل

دربارِ شاہ میں یوں نہ سر کو جھکا کے بیٹھ
اے دوست اٹھ فقیر کی محفل میں آ کے بیٹھ

مت رو، گزار دھوپ کو بادل کی اوٹ سے
بن جائے گی دھنک تُو ذرا مسکرا کے بیٹھ

پاتے ہیں ماہتاب کی لو سے مٹھاس پھل
نادان اس کی نظروں سے نظریں ملا کے بیٹھ

چہرہ اگر ہے آئنہ تو آنکھ جھیل ہے
ہر عکس میں خلوص کا منظر سجا کے بیٹھ

جب آستیں کے سانپ کا ڈسنا سرشت ہے
پھر تُو بھی آستین میں خنجر چھپا کے بیٹھ

کیسی ہوا چلی ہے کہ رقصاں ہے پھول پھول
تھوڑی سی بھی حیا ہو تو آنکھیں چرا کے بیٹھ

ابلیس کی بساط پہ شطرنج کھیل جا
باطل کا مہرہ نعرۂ حق سے گرا کے بیٹھ

ماتم کا سلسلہ نہ رکے بعد مرگ بھی
میری لحد پہ بلبلِ رنجیدہ آ کے بیٹھ

الفاظ بے معانی ہیں کچھ زندگی میں زین
جو اٹھ گئے ہیں نقطے مکرر بٹھا کے بیٹھ

زین علی آصف

post bar salamurdu

زین علی آصف

نام: زین علی آصف قلمی نام: زین جائے پیدائش: لوئر تناول ضلع ایبٹ آباد پاکستان موجودہ پتہ: ایبٹ آباد کے پی کے پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button