وہ جو موت سے پہلے مر چکے ہیں ۔۔ آخر کیوں زندہ ہیں ۔ انسان کبھی نہیں مرتا ۔۔۔ موت کے بعد بھی نہیں ، روح غیر فانی ہے اور یہ کبھی نہیں مر سکتی ! اگر روح مر جائے تو پھر انسانیت کیسے زندہ رہ سکتی ہے ۔۔۔ روح کے بغیر آخر زندگی کا مقصد کیا رہ جاتا ہے ۔ محض جسم کی حرکت کا نام تو زندگی نہیں ۔۔۔ مگر وہ جو روحانی طور پہ مر چکے ہیں ،،، وہ جسمانی طور پر کیوں زندہ ہیں ۔ یہ ویران کمرے جن کے روزن تک بند ہیں اور در و دیوار پر خامشی کی مہریں ثبت ہیں ۔۔۔ جن کی کھڑکیوں کے کان بہرے ہیں ۔ بوسیدہ دروازوں کے کواڑوں کی زبانیں گنگ ہیں اور فرشوں پر ظلمتوں کے عفریت خیمہ زن ہیں ۔۔۔ یہاں جسموں کے مرقد اور روحوں کے مدفن ہیں ۔۔۔ کمرے کے باہر انسانی قدموں کی آہٹ اور ان گنت ملی جلی صداؤں کا رس جنہیں سن سکتے ہیں محسوس کر سکتے ہیں ۔۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت تو نہیں کہ وہ زندہ ہیں ۔۔ ابھی تھوڑی دیر میں بادل زور زور سے گرجیں گے ۔۔ آسمان اور زمین کی بنیادیں دہل جائیں گی ۔۔۔ بہت کچھ ھو گا ۔۔ مگر وہ صدیوں سے مقفل ان دروازوں کو نہیں کھولیں گے ۔۔ کالی ہوا کا جھونکا یہ بات سمجھا گیا ہے کہ آسمان پر چمکنے والی بجلی کی روشن آنکھوں میں زندگی کی آخری ہچکی ہے ۔۔ پاگل بادلوں کی گھن گرج میں موت کی آواز سن کر بھی وہ زندہ رہیں گے وہ جو زندہ ہوتے ہوئے بھی روحانی طور پر مردہ ہیں
منزہ انور گوئیندی








