- Advertisement -

چٹانوں سے وہ ٹکر ا کر ، گری ہے آبشاروں میں

فرزانہ نیناں کی اردو غزل

چٹانوں سے وہ ٹکر ا کر ، گری ہے آبشاروں میں
رہی ندیا مگر قیدی ہمیشہ دو کناروں میں

کھلی ہے کاغذی پھولوں کی شادابی درختوں پر
چھپی ہے میرے اندر کی خزاں فرضی بہاروں میں

کہیں بھیگے ہوئے جھونکے کلی کو چوم جاتے ہیں
کہیں بپھری ہوئی پاگل ہوا ہے آبشاروں میں

کبھی ہم نیل کے پانی میں اس انداز سے ڈولیں
کہ اپنی داستاں لکھ دیں اُسی دجلہ کے دھاروں میں

مجھے قوموں کی ہجرت کیوں تعجب خیز لگتی ہے
یہ کونجیں کس قدر لمبے سفر کرتی ہیں ڈاروں میں

مری چشمِ تمنا میں تری صورت اتر آئی
دکھائی دے رہا ہے چاند اشکوں کے ستاروں میں
حویلی کا سماں وہ ہے ،نہ وہ پہلی کہانی ہے
نہ دلہن پر وہ جوبن ہے نہ جھلمل ہے غراروں میں

مجھے بھیگی سڑک پر چلتے چلتے یونہی یاد آیا
یہ بوندیں سنسنائی تھیں کبھی خوابی نظاروں میں

بدن کی پالکی کب تک اٹھائیں گے مرے کاندھے
اٹھے گا بوجھ یہ اک دن ، کبھی بٹ کر کہاروں میں

بلا کی چاندنی بکھری ہوئی ہے ہر طرف نیناں
سہیلی چل بِرہ کے گیت گائیں، سبزہ زاروں میں

فرزانہ نیناں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
فرزانہ نیناں کی اردو غزل