آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

پاکستان کی آزادی میں مکالمے کی اہمیت

شیخ خالد زاہد کا اردو کالم

الحمداللہ! ہم پاکستانی ہر سال پاکستان کے وجود میں آنے کا جشن پچھلے سال سے زیادہ بڑھ چڑھ کر مناتے ہیں۔پاکستان کے لئے دی گئی قربانیوں کا بڑھ چڑھ کر تذکرہ کرتے ہیں اور ان قربانیوں کوخراج عقیدت پیش کرنے کیساتھ شکریہ بھی کرتے ہیں۔ سماجی ابلاغ پر ملک سے محبت کیے ایسے مظاہرے کرتے ہیں کہ دنیا دنگ رہ جاتی ہے اور انہیں بطور حب الوطنی کے ثبوت پر پیش کرتے ہیں۔ لفظ آزادیpakistan اپنے اندرکس قدر خوبصورتی اور رعنائی چھپائے ہوئے ہے اس کا صحیح اندازہ وہی لگا سکتا ہے جس نے غلامی کی صعوبتیں جھیلی ہوں۔ ہم یہاں اس کی ذرا مختلف وضاحت کر لیتے ہیں، انسان اپنے نفس کی غلامی سے آزاد ہوکر ہی اپنے خالق کی حقیقی قرب کا حقدار کہلانے کے لائق ہوتا ہے۔ دیکھا جائے تو حقیقی آزادی اسے ہی کہا جاسکتا ہے جہاں نا زندگی میں کوئی سزا ر ہے اور ناہی دارِ فانی سے کوچ کرنے کا غم ستاتا ہے بلکہ دوسرے جہاں کا سدھر جانے کا یقین بھی آنے لگتا ہے۔

معاشرہ ایک زبان بولتا ہے، ایک سمت میں سوچتا ہے اور اپنی اجتماعی منزل کا تعین کرتا ہے یعنی حقیقی ترقی اتحاد کے مرہون منت ہوتی ہے۔ہمارے لئے پاکستان کی تحریک آزادی سے بڑا کوئی سبق یکجہتی اور یگانگت کی مثال نہیں ہوسکتا جہاں مسائل مختلف تھے، عقائد مختلف تھے، زبانیں مختلف تھیں، علاقے مختلف تھے لیکن نظریہ ایک تھا اور وہ تھا آزادی کا حصول۔ سب نے سب کچھ بالائے تاق رکھ چھوڑا تھا اور صرف نظریہ کی تکمیل کیلئے سرپر کفن باندھ کر نکل کھڑے ہوئے۔سب نے آزادی تک کسی اور معاملے پر دھیان نا دینے کا مصمم ارادہ کرلیا تھاجس کی تکمیل کیلئے نا مال کی فکر کی، ناجان کی فکر لاحق ہوئی، عزت و آبروبھی لٹا دی گئی،اللہ رب العزت نے اس تحریک کو مقبول کیا اور ہمیں آزادی کی نعمت سے نوازا گیا۔یہ آزادی اپنے آپ میں کسی نعمت سے کم نہیں،ساتھ ہی ایسا خطہ زمین نوازا گیا جو معدنی ذخائر سے مالا مال تھا اورزرخیز تھا۔

پاکستان کا وجود میں آنا انسانی جدوجہد کی تاریخ میں سنہری باب کا اضافہ تھا اور اس تحریک کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہ ایک نظریاتی تحریک تھی جس کی بنیاد دو قومی نظریہ تھا۔ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کی سب سے بڑی ہجرت تھی لیکن اس ہجرت میں انسانی جانوں کا بہت بڑا نقصان ہوا، جہاں سوگ زدہ ماحول تھا لیکن خوشی اس بات کی تھی کہ پاکستان بن چکا ہے۔ اس بات کو لکھنے کی ہمت نہیں ہورہی کہ تحریک پاکستان اور اس کے عوامل پاکستان بنتے ہی بکھر گئے، سانحہ کی شدت اتنی شدید تھی کہ لوگوں کا جذبہ بوجھل ہوکر رہ گیااور پھر کبھی بھی سنبھل ہی نہیں سکا۔ زمین کی تقسیم کے ساتھ ہی شائد ہم لوگ بھی تقسیم ہوگئے۔اس تقسیم کا نقصان یہ ہوا کہ سب اپنے اپنے مفاد کی چھتری میں چھپ کر بیٹھ گئے اور اتنا طویل بیٹھنا پڑا کہ پاکستان کے حالات ہی بدل کر رہ گئے۔ دشمن نے پہلے دن سے ہی سازشوں کا جال بننا شروع کردیا اور ہم جانے انجانے اس جال میں پھنستے چلے گئے۔ہم نے دشمن کے ہر ہر ظاہر ی حملے کا بھرپور جواب دیا اور ایسی کاری ضرب لگائیں کہ اس کے ہوش ٹھکانے آگئے لیکن دشمن نے چین سے نا بیٹھنے کی ٹھانی ہوئی تھی اس نے ہمیں مستحکم نا ہونے دینے کی ہر ممکن کوشش کی اور وہ اس میں کسی حد کامیاب بھی رہا۔ ہمارے دفاعی اور عسکری ادارے دشمن کی ہر سازش کا منہ توڑ جواب دیتے رہے ہیں ہماری آزادی کی حفاظت اپنی قیمتی جانوں کا نظرانہ پیش کر کے تاحال کررہے ہیں۔

آج جب ہم اناسیواں (۹۷) جشن آزادی منا رہے ہیں تو آج بھی ہم داخلی اور خارجی سازشوں کی زد میں ہیں، ہم بیک وقت کئی محاذوں پر حالاتِ جنگ میں ہیں۔ ہم نے سماجی ابلاغ کا سہارا لے کر مسائل کو اجاگر کرنا تو سیکھ لیا ہے لیکن ہم حقائق سے پردہ پوشی کر بیٹھے ہیں، آزادی کیلئے دی گئی قربانیوں کو پس پشت چھوڑ آئے ہیں۔تحریک آزادی باقاعدہ کسی میدانِ جنگ میں نہیں لڑی گئی تھی۔تحریک آزادی کے رہنماؤں نے بندوق نہیں اٹھائی ہوئی تھی یہ وہ عظیم لوگ تھے کہ جنہوں نے مکالمے سے عوام تک رسائی حاصل کی تھی ان کا اصل ہتھیار انکی فہم و فراست تھی، معاملہ فہمی تھی۔ ان لوگوں نے یکسوئی کیساتھ اپنی گفتگو سے اپنے قلم سے رائے عامہ ہموار کی اور تحریک کا پیغام ہندوستان کے کونے کونے تک پہنچایا۔آج پاکستان میں پہلی بد نظمی اس بات کا تقاضہ کر رہی ہے کہ مکالمے کو آزاد کیا جائے اور سوچ بچار کرنے والے لوگوں کو پاکستان کی اہمیت کو سمجھنے والے لوگوں کو سامنے لایا جائے تعلیمی اداروں میں طالبعلموں سے مکالمہ کیا جائے اور ویسے ہی رائے عامہ کو ہموار کیا جائے، آزادی کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے۔ آج جو کچھ فلسطین میں ہو رہا ہے اس پر آپسی بات چیت کی جائے اور حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جائے۔ نئی نسل پر واضح کریں کہ پاکستان ہمارا ملک ہے ہم مسائل کو مل بیٹھ کر بات کر کے حل کرنا چاہتے ہیں۔ آزادی کے جشن کے ساتھ ہر فرد وطن سے حقیقی محبت کا ایک عہد خود سے کرے جو ملک و ملت کی حقیقی تعمیر کا سبب بنے۔

ہر قسم کے امتیاز کوپسِ پشت رکھ دیجئے بلکہ دفن کردیجئے اور مکالمے کو عام کیجئے ہر مسلئے کا حل نکل سکتا ہے ہر مشکل کو آسان کیا جاسکتا ہے اپنے ہر دشمن کو زیر کیا جاسکتا ہے اگر ہم سب ایک نظرئیے پر کاربند ہوجائیں۔تعلیم یافتہ اور مہذب قومیں مکالمے کی بنیاد پر اپنی نسلوں کی پرورش کرتی ہیں۔ آج ہمارہ معاشرہ اخلاقی پاسماندگی کے درپہ ہے، لوگ بے حسی کی منہ بولتی تصویر بنتے جارہے ہیں، ہم ایک نوجوان کی موت کا معمہ حل نہیں کر پارہے۔ معاشرے میں ہیجانی کیفیات بڑھتی جارہی ہیں، برداشت نایاب ہوتی جارہی ہے۔ آج میرے کانوں میں حضرت جون ایلیاء کا کہا گیا وہ جملہ گونج رہا ہے کہ ہم بونوں کے معاشرے میں رہتے ہیں، چلیں حضرت جون کو غلط ثابت کریں اور قدآور قوم بنیں، حقیقت میں ہم قدآور ہی ہیں لیکن اپنی اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو چھپاتے چھپاتے بونے ہوگئے ہیں۔ہماری اقدار،ہمارے اسلاف ہم سے بونوں کے معاشرے کی قطعی توقع نہیں رکھتے تھے، وہ خودکتنے قدآور تھے یہ پاکستان کی صورت میں ہم پر واضح کیا کہ اپنے کئی گناطاقتور مخالفین کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔آج ہماری نوجوان نسل جس نے خود کو دشمن کیلئے تر نوالہ بنالیا ہے، ہم اپنی دنیا ہی نہیں دائمی زندگی بھی خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ مکالمے کو فروغ ملے گا تو برداشت بڑھے گی اور زندگی جو روٹھی ہوئی ہے،لوٹ آئے گی۔

ہم سوچ ہی نہیں رہے کہ آج معاشرے میں خودکشیوں کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے،مایوسیاں ہمارے نوجوانوں کو کیوں نگل رہی ہیں، نشے کا سہارا کیوں لیا جارہا ہے، ہم کیوں ایک دوسرے کو مارنے مرنے کیلئے تیار ہیں، یہ بدعنوانیوں کے الزامات کب تک یونہی ثابت نہیں ہوں گے، انصاف کی بلند و بالا عمارتوں میں انصاف کب ہوگا، کوئی بات نہیں کر رہا کوئی مسائل دور کرنا تو دور ان پر بات نہیں کررہا۔ سماجی ابلاغ اور مصنوعی ذہانت ہم جیسی قوموں کو مزید پستی میں دھکیلنے کی سازشیں ہیں۔پاکستان کی ہر جشن آزادی ہم سے یہی سوال کرتی ہے کہ کیا پاکستان کیلئے دی جانے والی قربانیاں اتنی حقیر ہیں کہ ہم ایک دوسرے سے مکالمہ تک نہیں کرسکتے۔یقین جانئیے آزادی کا حقیقی احساس اسی وقت ہوگا جب مکالمے کو آزادی ملے گی۔ پاکستان کا نوجوان اپنے آباؤ اجداد کے اقدار کا صحیح ترجمان مکالمے سے ہی تیار کیا جاسکتا ہے۔ تمام اہل وطن کوآزادی کے ساتھ آزاد ہوامیں سانس لینے کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔ اللہ پاکستان کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے تاقیامت رکھے۔آمین یا رب العالمین

شیخ خالد زاہد

post bar salamurdu

شیخ خالد زاہد

ایسوسی ایٹ جنرل سیکرٹری، ہماری ویب رائٹرز کلب (HWC) ممبر پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ (PFUC)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button