آپ کا سلاماردو غزلیاتایم اے دوشیشعر و شاعری

عدوئے جاں کو بھی

ایم اے دوشی کی ایک اردو غزل

عدوئے جاں کو بھی اب مہرباں سمجھتا ہوں
یہ بات سچ ہے مگر میں کہاں سمجھتا ہوں

میں تجھ سے بڑھ کے تجھے جانتا ہوں، دعوی ہے
وہ یوں کہ خود کو تری داستاں سمجھتا ہوں

زمانے والے محبت کو موت کہتے ہیں
عجیب ہوں میں محبت کو جاں سمجھتا ہوں

وہ کہہ رہا تھا، سمجھ ہے کوئی محبت کی
میں بے خیالی میں بولا کہ ہاں سمجھتا ہوں

جو آنکھ اشک کی دولت سے مالا مال نہیں
میں ایسی آنکھ کو بس رائیگاں سمجھتا ہوں

یہ میری ذات ہے کربل کا آئینہ دوشی
میں اپنی سانس کو نوکِ سناں سمجھتا ہوں

ایم اے دوشی

post bar salamurdu

ایم اے دوشی

ایم اے دوشی اردو شاعر | مصنف | براڈکاسٹر | صحافی- چیئرمین صدائے سخن پروفائل نام: ایم اے دوشی پیشہ: اردو شاعر | مصنف | براڈکاسٹر | صحافی عہدہ: چیئرمین – صدائے سخن تاریخ پیدائش : 1988 مقام: اسلام آباد، پاکستان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button