عدوئے جاں کو بھی اب مہرباں سمجھتا ہوں
یہ بات سچ ہے مگر میں کہاں سمجھتا ہوں
میں تجھ سے بڑھ کے تجھے جانتا ہوں، دعوی ہے
وہ یوں کہ خود کو تری داستاں سمجھتا ہوں
زمانے والے محبت کو موت کہتے ہیں
عجیب ہوں میں محبت کو جاں سمجھتا ہوں
وہ کہہ رہا تھا، سمجھ ہے کوئی محبت کی
میں بے خیالی میں بولا کہ ہاں سمجھتا ہوں
جو آنکھ اشک کی دولت سے مالا مال نہیں
میں ایسی آنکھ کو بس رائیگاں سمجھتا ہوں
یہ میری ذات ہے کربل کا آئینہ دوشی
میں اپنی سانس کو نوکِ سناں سمجھتا ہوں
ایم اے دوشی







