آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعُظمی جَون

تِتلیوں کے پَر پہ لِکھی داستاں

ایک اردو غزل از عُظمی جٙون

تِتلیوں کے پَر پہ لِکھی داستاں سمجھا تھا میں
زندگی کو الفتِ شُعلہ رُخاں سمجھا تھا میں

چار دن کی زندگی کو جاوِداں سمجھا تھا میں
یہ حقیقت بَر سرِ نوکِ سِناں سمجھا تھا میں

تُو مِرے دل کے نہاں خانے میں ہے کب سے مکیں
دَردِ جاناناں تجھے تو لا مکاں سمجھا تھا میں

دل کی مُٹھی میں سِمٹ کر آگیا غم آپ کا
وُسعتِ دردِ جہاں کو بیکراں سمجھا تھا میں

نِیلگوں طشتِ فلک پر جا بہ جا بِکھری ہوئی
کہکشاں کو کانچ کی کچھ کِرچِیاں سمجھا تھا میں

چار سُو پھیلے اُفق کو بَھول پن میں آج تک
حد زمین و آسماں کے درمیاں سمجھا تھا میں

باغ کے اِک کُنج میں کِھلتے ہُوئے پھولوں کے بِیچ
دوڑتے بچوں کو رنگیں تِتلِیاں سمجھا تھا میں

وہ ہی میری بخشِشِ عُقبیٰ کا باعث بن گئی
جس دُعائے نِیم شب کو رائیگاں سمجھا تھا میں

عُظمی جٙون

post bar salamurdu

عُظمی جَون

عُظمی جَون- سِبّی : بلوچستان-دو شعری مجموعوں کے خالق :*خِزاں کی رُت سُنہری ہے**ستارے میرے آنسو ہیں*- پروفیسر/پرنسپل (ریٹائرڈ)- مقامی، صوبائی، ملکی اور عالمی مشاعروں میں شرکت۔ لاتعداد ایوارڈ و اسناد یافتہ۔ *فن اور شخصیت*- *خِزاں کی رُت سُنہری ہے کا فنی جائزہ* - *"خِزاں کی رُت سُنہری ہے" کا تنقیدی جائزہ*- *عُظمی جَون کی شاعری میں روایت و جدیدیت کا تقابلی جائزہ* جیسے عنوانات کے تحت BS, ایم ایس اور M.Phil کی سطح پر تحقیقی مقالہ جات۔ Face Book, YouTube، Instagram جیسے سوشل میڈیا پر Uzmee Jaon کے نام سے چینل اور پیجز۔ریختہ اور گوگل پر مواد موجود۔آذربائیجان میں عارضی رہائش۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button