آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتافروز عالم

شبنم کی طرح صبح کی آنکھوں میں پڑا ہے

افروز عالم کی ایک اردو غزل

شبنم کی طرح صبح کی آنکھوں میں پڑا ہے

حالات کا مارا ہے پناہوں میں پڑا ہے

تھا زندگی کے ساز پہ چھیڑا ہوا نغمہ

بے ربط جو ٹوٹے ہوئے سازوں میں پڑا ہے

سورج کی شعاعوں سے الجھتا ہے مسلسل

سایہ ہے ابھی وقت کی باہوں میں پڑا ہے

تاریخ بتائے گی وہ قطرہ ہے کہ دریا

آنسو ہے ابھی وقت کے قدموں میں پڑا ہے

اس طرح وہ رد کرتا ہے عالمؔ کے کہے کو

جیسے کوئی بھرپور گناہوں میں پڑا ہے

افروز عالم

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button