رابطہ تو بحال رکھا ہے
پر مجھے کل پہ ٹال رکھا ہے
ایک غم نے نڈھال رکھا ہے
پھر بھی خود کو سنبھال رکھا ہے
اس سے آتی ہے آپ کی خوشبو
ہم نے کُرتا سنبھال رکھا ہے
دل امانت ہے تیرے قدموں کی
جانے والے ! سنبھال رکھا ہے
چار خانے ہیں میرے سینے میں
جن میں بھر کر ملال رکھا ہے
ہم نے ماتھے پہ اتنے برسوں سے
ایک بوسہ اجال رکھا ہے
میری خاموشی رد نہ ہو پائی
میں نے رب کو مثال رکھا ہے
کرن منتہیٰ








