اردو غزلیاتجون ایلیاشعر و شاعری

کام کی بات میں نے

جون ایلیا کی ایک اردو غزل

کام کی بات میں نے کی ہی نہیں

یہ میرا طورِ زندگی ہی نہیں

اے اُمید، اے اُمیدِ نو میداں

مجھ سے میّت تیری اُٹھی ہی نہیں

میں جو تھا اِس گلی کا مست خرام

اس گلی میں میری چلی ہی نہیں

یہ سنا ہے کہ میرے کوچ کے بعد

اُس کی خوشبو کہیں بسی ہی نہیں

تھی جو اِک فاختہ اُداس اُداس

صبح وہ شاخ سے اُڑی ہی نہیں

مجھ میں اب میرا جی نہیں لگتا

اور ستم یہ کے میرا جی ہی نہیں

وہ رہتی تھی جو دل محلے میں

وہ لڑکی مجھے ملی ہی نہیں

جائیے اور خاک اڑائیں آپ

اب وہ گھر کیا کے وہ گلی ہی نہیں

ہائے وہ شوق جو نہیں تھا کبھی

ہائے وہ زندگی جو تھی ہی نہیں

جون ایلیا

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button