- Advertisement -

گفتگو ایک سوکھی بیل کی ہے

ایک اردو غزل از علی زیرک

محبتی شاعر احمد جہانگیر کے نام

گفتگو ایک سوکھی بیل کی ہے
گھر کی دیوار ہے کہ جیل کی ہے

آپ راوی میں کود سکتے ہیں
ورنہ لاری تو عیسٰی خیل کی ہے

اُس نے مسجد کو چندہ دینا تھا
جس نے سستی شراب سیل کی ہے

زندگی، موت کا کنواں تو نہیں
تم نے جیسے بریک فیل کی ہے

دیکھی بھالی ہے چاند کی یہ چمک
ایسی پالِش تو اُس کے نیل کی ہے

میں اناڑی تو خیر جم کے ہوں
اور یہ بات دل کے کھیل کی ہے

بے دلی سے پکارتا ہوں تجھے
جیسے سیٹی خراب ریل کی ہے

علی زیرک

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از علی زیرک