نوجوان اور ورچوئل دنیا کی گرفت
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
پاکستان میں سوشل میڈیا کا کردار آج اس قدر گہرا ہو چکا ہے کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن ہی نہیں رہا۔ یہ محض تفریح یا وقتی رابطے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ زندگی کے ہر شعبے پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ ہماری سیاست، معیشت، ثقافت، تعلیم، حتیٰ کہ ہمارے خاندانی تعلقات بھی اس کے زیرِ اثر ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ دنیا ایک بڑے کمرے میں سمٹ آئی ہے اور ہر شخص اپنی آواز دوسروں تک براہِ راست پہنچا سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس طاقت کو صحیح معنوں میں سمجھا ہے؟ کیا ہم نے اسے اپنی ترقی، اپنے اتحاد اور اپنی اصلاح کے لیے استعمال کیا یا ہم اسے انتشار اور وقت ضائع کرنے کے راستے پر لگا بیٹھے ہیں؟
پاکستان میں سوشل میڈیا نے سیاست کا مزاج بدل ڈالا ہے۔ ایک وقت تھا کہ عوامی جلسے اور ریلیاں سیاست دانوں کی طاقت کا پیمانہ سمجھی جاتی تھیں، اب ایک ٹویٹ یا چند سیکنڈ کی ویڈیو پوری حکومتوں کے بیانیے کو بدل دیتی ہے۔ کوئی رہنما اگر ایک جملہ بول دے تو لمحوں میں وہ جملہ ہیش ٹیگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور ملک بھر میں بحث شروع ہو جاتی ہے۔ عدالت کے فیصلے، پارلیمنٹ کی کارروائی یا وزیروں کے بیانات سے زیادہ اہمیت اب ان کے سوشل میڈیا کلپس کو حاصل ہو گئی ہے۔ لیکن یہ سچ بھی ہے کہ اسی طاقت نے معاشرے میں الجھنیں بڑھا دی ہیں۔ سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر دھندلا چکی ہے۔ افواہیں اس رفتار سے پھیلتی ہیں کہ ان کی تردید تک پہنچنے میں وقت لگتا ہے اور تب تک معاشرے کا ذہن متاثر ہو چکا ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے: "یا ایھا الذین آمنوا إن جاءکم فاسق بنبإ فتبینوا أن تصیبوا قوماً بجھالة فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین” (الحجرات: 6)۔ یعنی جب کوئی خبر آئے تو اس کی تحقیق کرو، ورنہ کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا دو گے اور بعد میں پچھتاؤ گے۔ افسوس کہ آج کا مسلمان اس حکم کو فراموش کر کے ہر خبر کو بنا تحقیق کے آگے بڑھا دیتا ہے۔
نوجوان نسل سوشل میڈیا کی اصل طاقت ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر صارفین نوجوان ہیں جن کے ہاتھوں میں اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ ہے۔ ایک عام طالب علم، ایک چھوٹے قصبے کا لڑکا یا لڑکی، آج یوٹیوب یا ٹک ٹاک پر ویڈیو بنا کر لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایک موقع بھی ہے اور ایک خطرہ بھی۔ موقع اس لیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکتا ہے، مثبت پیغام عام کر سکتا ہے، تعلیم یا ہنر سکھا سکتا ہے۔ خطرہ اس لیے کہ شہرت کی دوڑ میں وہ کبھی غیر سنجیدہ اور غیر اخلاقی راستوں پر چل نکلتا ہے۔ ایک لمحے کی شہرت کے لیے وہ اپنی تعلیم، اپنی اقدار اور اپنے خاندان تک کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ یوں سوشل میڈیا ایک آئینہ ہے جو ہمارے اندر کے رجحانات کو دنیا کے سامنے لا دیتا ہے۔
ثقافتی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ ہماری ثقافت رنگوں اور روایتوں کا حسین امتزاج ہے۔ مگر سوشل میڈیا نے اسے ایک نئے زاویے سے دنیا کے سامنے رکھا ہے۔ پاکستانی گانے، ڈرامے اور مزاحیہ کلپس پوری دنیا میں دیکھے جاتے ہیں۔ ایک طرف یہ خوشی کی بات ہے کہ دنیا ہمیں پہچان رہی ہے، دوسری طرف یہ فکر بھی لاحق ہے کہ ہم مغربی کلچر کی نقالی میں کہیں اپنی اصل کھو نہ دیں۔ لباس، زبان اور رہن سہن میں نوجوان نسل تیزی سے مغربی اثرات کا شکار ہو رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب کوئی قوم اپنی تہذیب بھلا دیتی ہے تو وہ اپنی شناخت کھو دیتی ہے۔ اسلام نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ اعتدال اختیار کرو، اچھی چیز اپناؤ لیکن اپنی اصل اقدار نہ چھوڑو۔ حضور ﷺ نے فرمایا: "افضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر” یعنی بہترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنا ہے۔ اگر ہم اس ہدایت کو سوشل میڈیا پر بروئے کار لائیں تو یہ پلیٹ فارم حق اور انصاف کے لیے ایک مضبوط ذریعہ بن سکتا ہے۔
تعلیم کے میدان میں بھی سوشل میڈیا نے نئی راہیں کھولی ہیں۔ آج ہر مضمون، ہر موضوع اور ہر علم آن لائن دستیاب ہے۔ ایک طالب علم جسے کبھی کتابیں ڈھونڈنے میں مہینے لگ جاتے تھے، وہ اب یوٹیوب کے ایک لیکچر سے اپنا مسئلہ حل کر لیتا ہے۔ آن لائن کورسز نے پاکستان کے طلبہ کو دنیا کے بہترین اساتذہ تک رسائی دی ہے۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ زیادہ تر نوجوان سوشل میڈیا کو پڑھائی کے بجائے تفریح اور وقت گزاری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ امتحان قریب آتے ہی وہ پریشان ہوتے ہیں۔ علم کے بجائے گپ شپ، میمز اور ویڈیوز پر وقت گزر جاتا ہے۔ یہاں اساتذہ اور والدین کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ بچوں کو رہنمائی دیں کہ یہ طاقت مثبت طور پر استعمال ہو۔
معاشی اعتبار سے بھی سوشل میڈیا پاکستان میں انقلاب لا رہا ہے۔ چھوٹے کاروبار انسٹاگرام اور فیس بک پیجز کے ذریعے لاکھوں گاہکوں تک پہنچ رہے ہیں۔ خواتین گھروں میں بیٹھ کر اپنے ہنر کو بزنس کی شکل دے رہی ہیں۔ فری لانسنگ نے نوجوانوں کے لیے عالمی مارکیٹ کے دروازے کھول دیے ہیں۔ یوٹیوب چینلز اور بلاگز نے بے شمار لوگوں کو آمدنی کا ذریعہ فراہم کیا ہے۔ مگر اس میدان میں بھی دھوکہ دہی اور فراڈ بڑھ رہا ہے۔ کوئی جعلی آن لائن شاپنگ سے پیسے لوٹ رہا ہے، کوئی جھوٹے انعامی سکیم کے ذریعے۔ اگر حکومت نے اس کو منظم نہ کیا تو عوام کا اعتماد ٹوٹ جائے گا اور یہ موقع ضائع ہو جائے گا۔
سوشل میڈیا کا ایک بڑا اثر نفسیات پر بھی پڑ رہا ہے۔ ہر وقت موبائل ہاتھ میں رکھنے کی عادت نے نوجوانوں کو زیادہ تنہا کر دیا ہے۔ لائکس اور کمنٹس کی دوڑ نے ان کے ذہنوں پر دباؤ ڈال دیا ہے۔ اگر کسی تصویر پر زیادہ لائکس نہ آئیں تو وہ مایوسی میں چلے جاتے ہیں۔ یہ ایک بیماری کی شکل اختیار کر رہی ہے جسے ماہرین "سوشل میڈیا ڈپریشن” کہتے ہیں۔ اسلام نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ اصل سکون دنیاوی شہرت میں نہیں بلکہ اللہ کے ذکر میں ہے: "الا بذکر الله تطمئن القلوب” (الرعد: 28)۔ اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ حقیقی کامیابی اللہ کی رضا میں ہے تو سوشل میڈیا کی چمک دمک ہمارے لیے اتنی اہمیت نہیں رکھے گی۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سوشل میڈیا صرف خرابیوں کا نام نہیں۔ اگر ہم چاہیں تو یہ پلیٹ فارم ایک عظیم صدقۂ جاریہ بھی بن سکتا ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات عام کی جا سکتی ہیں، اخلاقیات اور مثبت رویے سکھائے جا سکتے ہیں، علم و ہنر پھیلایا جا سکتا ہے۔ دنیا کے کئی اسلامی اسکالرز نے یوٹیوب اور فیس بک کو دین کی تبلیغ کے لیے استعمال کیا اور لاکھوں دلوں کو بدل ڈالا۔ یہ ہمارے لیے سبق ہے کہ ہم بھی اپنی صلاحیتیں صحیح مقصد کے لیے صرف کریں۔
پاکستان کو اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ اتحاد، برداشت اور شعور ہے۔ سوشل میڈیا ان تینوں کے لیے ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اس کو مثبت رخ پر استعمال کریں۔ ورنہ یہی پلیٹ فارم ہماری تقسیم کو مزید گہرا کر دے گا۔ آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اس طاقت کو خیر کے لیے استعمال کریں گے یا شر کے لیے۔ اگر خیر کے لیے استعمال کریں گے تو یہ ہماری قوم کے لیے ترقی کا ذریعہ ہوگا، اگر شر کے لیے استعمال کریں گے تو یہ ہمارے زوال کا سامان کرے گا۔
آخر میں بات پھر وہی ہے کہ سوشل میڈیا ایک تیز دھار تلوار کی طرح ہے، جو ہاتھ میں ہے وہ اس کو جس مقصد کے لیے چاہے استعمال کرے۔ ہمیں چاہیے کہ اس طاقت کو اللہ کی رضا، قوم کی بھلائی اور اپنی اصلاح کے لیے بروئے کار لائیں۔ اگر ہم نے اس کے استعمال میں اسلامی تعلیمات کو بنیاد بنایا، تحقیق کو اپنا اصول بنایا، اور سچائی کو اپنی پہچان بنایا، تو کوئی طاقت ہمیں ترقی سے روک نہیں سکتی۔ لیکن اگر ہم نے جھوٹ، بہتان اور بے حیائی کو عام کرنے کے لیے اسے استعمال کیا تو یہ ہمیں لے ڈوبے گا۔ آج بھی وقت ہے کہ ہم اپنی سمت درست کریں۔ قرآن نے ہمیں وہی اصول دیا ہے: "فمن یعمل مثقال ذرة خیراً یرہ ومن یعمل مثقال ذرة شراً یرہ” (الزلزال: 7-8)۔
یہ تحریر لکھتے ہوئے یہی احساس ہوتا ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا ہمارے لیے ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ یہ ہم پر ہے کہ ہم اسے نعمت بناتے ہیں یا زحمت۔
یوسف صدیقی








